مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 173
ضمیمه پارتھینو جینیس Parthenogenesis کی اصطلاح افزائش نسل کے اس نظام کے لیے بولی جاتی ہے۔جس کے تحت کسی جنسی اختلاط کے بغیر ہی مادین (مؤنث) کا بیضہ تولید از خود زرخیز ہو جاتا ہے۔یہ نظام تولید حشرات اور مچھلیوں میں بہت عام ہے اور دیگر بھی جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔جیسا کہ تیلی (Aphid) میں۔جہاں تک رینگنے والے جانوروں کا تعلق ہے تو یہ عمل چھپکلیوں میں جہاں کم اور غیر متوقع بارشیں ہوتی ہیں وہاں اس کے یقینی ثبوت ملتے ہیں۔1955ء میں Lancet میں یہ واقعہ رپورٹ ہوا کہ ایک عورت نے ایک بیٹی کو جنم دیا اور اس عمل میں پار تھینو جینس کے عمل کو رد نہیں کیا جاسکتا۔یہ عمل ممالیہ (Mammals) میں بھی بطور تجربہ استعمال ہوا ہے۔لیکن ابھی تک ممالیہ میں ایسی کسی پیدائش کا بین ثبوت نہیں ہے۔اب تک اس حد تک یہ تجربہ کامیاب ہوا ہے کہ چوہے اور خرگوش اس عمل سے حاملہ ہو جاتے ہیں لیکن مدت حمل کے دوران ہی وہ مردہ ہو جاتے ہیں اور ان کا اسقاط حمل ہو جاتا ہے۔اس تحقیق میں یہ عمل دھرایا گیا کہ تازہ انسانی بیضہ اور پہلے سے موجود غیر بار آور بیضہ کو الکوحل اور کیلشیم Ionophore کے ساتھ ملایا گیا اور اس کے متحرک ہونے کا مشاہدہ کیا گیا۔اس عمل سے یہ بات ابھری کہ انسانی بیضہ کو کیلشیم Ionophore استعمال کرتے ہوئے Parthenogenetically متحرک کیا جاسکتا ہے لیکن یہ تناسب چوہوں میں پائے جانے والے تناسب سے کم ہے۔انسانی بیضہ آٹھ خلیوں کی تقسیم تک خود باور ہو سکتا ہے۔ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم میں ممکن ہے کہ ایسے بہت سارے انسانی استقاط حمل ہوئے ہوں جو اس عمل کی وجہ سے زرخیز ہوئے ہوں۔انسانوں میں جزوی Parthenogenesis کا ایک واقعہ New Scientist کے 7اکتوبر 1995 کے مضمون ”The boy whose blood has no father“ کے تحت بیان ہوا۔مرد کی صورت میں تمام خلیوں میں لا کروموسوم کا ہونا لازم ہے۔لیکن اس تین سالہ بچے کے سفید خون کے خلیوں میں صرف XX کروموسوم موجود تھے۔اس خبر کے رپورٹر کے مطابق بعض اوقات chromosomal مادہ کے X کروموسوم میں ہی مردانہ جین موجود پایا گیا۔تب محقیقن کا خیال تھا ان کا یہ کیس شاید اسی(Syndrome) کی مثال ہے۔لیکن جب انھوں نے DNA کی باریک بین تکینک استعمال کی