مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 165
165 مسیحیت آج کے دور میں نہیں کیا جاسکتا۔ایسے دعوی کو نہ کسی مجنون کی بڑ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے خوابوں کی دنیا میں کھو جانے والے کسی شیخ چلی کے خیالی پلاؤ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔احمدیت ایک ایسی حقیقت ثابتہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ آج ایک صدی کے بعد اس کا مشاہدہ ایک ایسے افق پر کیا جاسکتا ہے جو پہلی صدی عیسوی کے اختتام کے افق سے کہیں زیادہ وسیع تر اور نمایاں تر واقع ہوا ہے۔یہ ہے معاملہ اور حال احوال ایک ایسے مسیح کا کہ جو کسی فسانہ کا کردار نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر آج سے دو ہزار سال پہلے مبعوث ہوا تھا اور اس زمانہ میں پھر ایسے مسیح کا معاملہ در پیش ہے جس کی بعثت ثانیہ اتنی ہی حقیقی ہے جتنی کہ ایک مامور من اللہ کی حیثیت سے اس کی پہلی بعثت حقیقی تھی۔اب یہ کلیڈ اس زمان کے لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اگر چاہیں تو قصوں، کہانیوں اور تخیلات کی دنیا میں اپنی زندگی جاری رکھیں اور اپنے اپنے مذہب اور عقیدہ کے مطابق اپنے اپنے موعود مصلح کا ابد تک انتظار کرتے رہیں یا پھر تخیلات کی دنیا سے باہر آکر اس زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کو قبول کریں۔ایک بات ایسی ہے جس سے سب کو ضرور اتفاق کرنا چاہیے کہ ایک نہیں بہت سے مذہبی رہنما ایسے گزرے ہیں جن کا مرتبہ عام انسانی درجہ سے بڑھا کر انہیں معبود قرار دے دیا گیا۔پھر ایک دفعہ نہیں بلکہ بہت مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ مذہبی رہنماؤں کے متعلق یہ تصور کر لیا گیا کہ وہ مرے نہیں بلکہ زندہ ہی آسمان پر چلے گئے اور وہاں کہیں دور خلاؤں میں واقع اپنی آرام گاہوں میں انتظار کر رہے ہیں کہ وہ وقت آنے پر دوبارہ کرہ ارض پر نازل ہوں۔اس کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے کہ کوئی کیوں ان جملہ دعاوی میں سے ایک دعوی کو قبول کرے اور دوسرے کو مسترد کر دے کیونکہ یہ محض دعاوی ہیں۔ان کی تائید میں کوئی مثبت ، حتمی اور سائنسی ثبوت پیش نہیں کیا جاتا اور نہ پیش کیا جا سکتا ہے۔لہذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ یا تو سب دعاوی کو قبول کیا جائے یا سب کو ہی مجموعی طور پر مسترد کر دیا جائے۔یہی ایک منصفانہ اور دیانت دارانہ طرز عمل ہو گا۔خیالی طور پر آسمان پر زندہ پہنچائے جانے والے مذہبی رہنماؤں کے متعلق ایک بات یقینی ہے کہ ایک دفعہ اپنی زمینی زندگی ختم کر کے یہاں سے جانے کے بعد ( بلالحاظ اس کے کہ ان کے ماننے والوں کے نزدیک وہ کس طریق پر یہاں سے رخصت ہوئے ) نوع انسانی کی پوری تاریخ میں ان میں سے کوئی ایک بھی زمین پر واپس نہیں آیا۔مزید بر آں ایک اور بات بھی حتمی اور یقینی ہے کہ وہ سب مقدس روحانی رہنما جنہیں خداؤں کا درجہ دیا گیا یا جنہیں خدا کا شریک ٹھہرایا گیا انہوں نے اپنی زندگیاں عام عاجز انسان کی زندگی ہی گزاری یہاں تک کہ موت نے انہیں آلیا۔یہ صرف ان کے پیروکار ہی تھے جنہوں نے بعد میں انہیں خدا قرار