مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 1

باب اوّل ابنیتِ مسیح کی اصل حقیقت مسیحیت میں خدا اور یسوع مسیح کے درمیان ”باپ بیٹے کے رشتہ کو بنیادی اور مرکزی اہمیت حاصل ہے۔آئیے پہلے ہم یہ جانے اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ ”حقیقی بیٹا ہونا کس مفہوم کا حامل ہے ، یعنی یہ کہ حقیقی بیٹا ہونے کے معانی کیا ہیں؟ جب ہم حقیقی باپ کا حقیقی بیٹا ہونے کے معانی پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں تو اس کی بعض ایسی تفاصیل ابھر کر سامنے آتی ہیں جو ہمیں ابنیت مسیح کے بارہ میں اپنی رائے یا نظریہ کا نظر ثانی کے رنگ میں دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ہم پہلے اس امر کو لیتے ہیں کہ حقیقی بیٹا کیا ہوتا ہے ؟ اس زمانہ میں جب کہ ابھی سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اور یہ حقیقت ابھی دریافت نہیں ہوئی تھی کہ ایک بچہ کی تخلیق یا پیدائش کیسے اور کس طرح ظہور میں آتی ہے؟ اس سوال کا بہت مبہم اور غیر واضح جواب دیا جا سکتا تھا۔ازمنہ قدیم کے لوگوں کے نزدیک یہ بات عین ممکنات میں سے تھی کہ انسان کے ہاں نئے بچوں کی پیدائش کے مانند خدا کا بھی اپنا نسلی اور اصلی بیٹا ہو سکتا ہے۔یہ نظریہ یا اعتقاد دنیا کے مختلف حصوں میں آباد قریباً تمام ملحدانہ سوسائٹیوں اور معاشروں میں ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر عام پھیلا ہوا تھا۔اگر یونانی علم الاصنام پر نظر ڈالیں تو وہ دیوی دیوتاؤں کی اولادوں کی پیدائش کے دیو مالائی قصے کہانیوں سے بھر اپڑا ہے۔اور اسی طرح ہندو دیو مالائی سلسلہ بھی اس بارہ میں یونانی علم الاصنام سے کسی لحاظ سے بھی پیچھے نہیں ہے۔اس قدیم زمانہ کے انسانوں کا نظریہ یہ تھا کہ ان کے نام نہاد دیوی دیوتا جتنی تعداد میں چاہیں اپنے بیٹے بیٹیوں کو انسانوں کی طرح ہی خود جنم دے سکتے ہیں۔اس زمانہ میں انسانی دماغ نے اپنے اس نظریہ کے مالہ وماعلیہ کے بارہ میں کبھی سوچا ہی نہ تھا اور نہ کبھی اس پر کسی اعتراض کی گنجائش کا سوال ہی پیدا ہوا تھا۔اسے پہلے سے مروج ایک مسلمہ حقیقت کی حیثیت حاصل تھی لیکن اب تو سائنس نے اس درجہ ترقی کر لی ہے کہ بچوں کی شکل میں نئے انسانوں کی تخلیق اور پیدائش کے پورے نظام اور طریق کار کو کسی ابہام کے بغیر اتنے حتمی اور واشگاف انداز میں پوری تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے کہ قبل ازیں انسان کے لئے اس کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔جدید تحقیق کی رُو سے حتمی طور پر ثابت شدہ یہ سارا نظام اپنی جملہ