مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 148

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 148 اور وہاں کی پوری آبادی کو اس نے سر سے پاؤں تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر بے بس کر دیا تو پھر ان کے ہاتھوں اور پیروں میں اقتصادی غلامی کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈالنے میں بھلا کیا دیر لگتی تھی۔سیاسی غلامی کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے اقتصادی غلامی بھی ان پر مسلط کر دی گئی۔اگر مفتوحہ علاقوں کے لوگوں کو اقتصادی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا نہ جائے تو سامراجی فتوحات بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔افریقہ میں سیاسی اور اقتصادی غلامی کے پیچھے پیچھے ان پادریوں کی آمد کا مقصد ان کے سیاسی اور اقتصادی پیش رو فاتحین کے مقصد سے بالکل متضاد نظر آتا تھا۔انہوں نے آکر اعلان یہ کیا کہ وہ غلام بنانے کے لئے نہیں بلکہ افریقہ کی روحوں کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کرنے آئے ہیں۔یہ امر واقعی تعجب انگیز ہے کہ اہل افریقہ نے ان کو بظاہر نیک نظر آنے والے اس ارادہ پر کوئی اعتراض نہ کیا۔انہوں نے کلیسیا کے ان نووارد مشفق و مہربان خادمان خلق سے بصد ادب یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ انہیں صرف اور صرف ان کی روحوں پر ہی کیوں ترس آرہا ہے؟ کیا خود انہیں نظر نہیں آرہا تھا کہ ان کے جسموں کو بڑی بے رحمی سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے؟ کیسے اندھادھند ظالمانہ طریق پر ان کی سیاسی آزادی کو لوٹ کر انہیں بے دست و پا کر دیا گیا ہے ؟ ان مشفق و مہربان اور سراپا حسن و احسان پادریوں کو ان کی جسمانی غلامی کی حالت زار پر کیوں رحم نہ آیا؟ اور ان کی ہمدردی غلام بنائے جانے والے بے بس لوگوں کی روحوں کو آزادی سے ہمکنار کرنے تک ہی کیوں محدود ہو کر رہ گئی ؟ یہ امر ظاہر و باہر تھا کہ یہ صورت حال ایک واضح تضاد کی حامل تھی لیکن افسوس ! یہ تضاد ان لوگوں کی نظر سے اوجھل رہا جو ان مسیحی منصوبوں اور سازشوں کا شکار ہوتے چلے گئے۔آج بھی افریقہ اتناہی بھولا اور سادہ لوح ہے جتنا آج سے دو سو سال پہلے تھا۔اہل افریقہ ابھی تک اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ایک نئے قسم کے نو آبادیاتی نظام کے بظاہر دور از کار لیکن اپنے قابو میں لانے اور زیر تسلط رکھنے کے خفیہ اور پُر اسرار طریق کار کے ذریعہ ان کی اقتصادی غلامی کو دوامی حیثیت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔وہ ابھی تک اس احساس سے عاری ہیں کہ انہیں مغرب کے زیر نگیں اور مغلوب رکھنے کا ایک ذریعہ مسیحیت بھی ہے۔یہ ذریعہ ایک ایسی افیون آمیز دوا کی حیثیت رکھتا ہے جس نے لوریاں دے دے کر اور گہری نیند سلا کر ان پر خود فراموشی کی کیفیت طاری کر دی ہے۔مسیحیت اگر وہ دیکھیں اور غور کریں ، ان کے اپنے اندر یہ جھوٹا احساس پیدا کرنے کا ذریعہ ہے کہ وہ اپنے حاکموں کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک برابری کی سطح پر آکر ان