مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page xvi
XV پیش لفظ کرنے میں مسیحی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہیں؟ کیا تشد د اور حملہ کا نشانہ بننے والے معصوم اور بے گناہ عیسائی ایک گال پر تھپڑ کھانے کے بعد تشدد کرنے والے کے سامنے اپنا دوسرا گال بھی پیش کر دیتے ہیں ؟ سوچنے اور جاننے والی بات یہ ہوتی ہے کہ زندگی میں ایک شخص اپنے عمل و کردار کے روپ میں اپنے ایمان کی کیا تصویر دکھاتا ہے یا اس کی کیا جھلک پیش کرتا ہے۔اگر اس کا عمل و کردار اس کے ایمان کی عکاسی نہیں کرتا تو یہ بعینہ ہمارے اس قول کی بڑی معنی خیز تصدیق ہو گی کہ اس کا ایمان باللہ انسانی حوائج اور ان کے پرکشش تقاضوں سے متصادم ہے۔اگر ان کے مابین تصادم کے وقت ایمان باللہ بہر طور سر بلند رہتا ہے یعنی وہ نفسانی خواہشات اور میلانات کو اس کی خاطر قربان کر دیتا ہے تو پوری دیانت داری سے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا ایمان باللہ کسی بھی نوعیت کا ہو وہ بہر حال اپنی جگہ مستحکم ہے اور خلوص اور اصلیت و حقیقت سے ہرگز عاری نہیں ہے۔اگر دنیائے عیسائیت کی موجودہ حالت پر نظر ڈالی جائے اور مذکورہ بالا امتحان میں سے گزار کر اس کے ایمان باللہ کی کیفیت کو جانچا جائے تو ایسی کوشش بہت ہی افسوس ناک اور دل شکن تجربہ ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتی۔اس کوشش کے نتیجہ میں سابقہ جس صورت حال سے پڑتا ہے وہ خدا پر ایمان سے کھلی کھلی بغاوت کے مترادف نظر آتی ہے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ بعض اوقات یہ بغاوت اس قدر خاموش اور غیر محسوس نوعیت کی ہوتی ہے کہ اسے کھلا انکار قرار دینا بھی مشکل ہوتا ہے۔وجہ یہ کہ نظر یہ بظاہر محسوس یہ ہو رہا ہو تا ہے کہ یہ صورت حال ایمان باللہ کے اقرار اور عمل میں تضاد کی وجہ سے رونما ہوئی ہے۔اس لئے دھو کہ یہ لگتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان رکھنے والے لوگوں کا ہی معاشرہ ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہوتی ہے۔کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ یہ بات بڑی حد تک دوسرے معاشروں پر بھی صادق آتی ہے لیکن اس معاملہ میں اصل غور طلب بات یہ ہے کہ ہر ایسے معاشرہ کے معاملہ میں ایک ہی وجہ کار فرما نہیں ہوتی، ہر معاشرہ کی بظاہر یکساں صورت حال کی وجہ مختلف ہوتی ہے۔مزید برآں ہر معاشرہ کی صورت حال کو اس کے اپنے مخصوص احوال و کوائف کی روشنی میں جانچنا ضروری ہوتا ہے۔اسی لئے تو اس امر کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ مختلف معاشروں کے افراد کے عقائد و اعمال میں پائے جانے والے تضادات کا ان کے اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر جدا گانہ انداز میں ٹھنڈے دل و دماغ سے بغور تجزیہ کیا جائے۔پھر اس امر کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ کسی مخصوص معاشرہ کا عقیدہ خود اپنی ذات میں پیچیدہ اور غیر فطری ہو تا ہے۔مثال کے طور پر غیر یہودی اقوام اور لوگوں کے بارہ میں طالمود کی تعلیم کے بعض حصے اور اسی طرح اچھوت اقوام کے بارہ