مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page xiii
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک xii کر بہت حیران ہوئے کہ بائبل سے مستنبط ہونے والی تفہیم اور سائنسی دریافتوں پر مبنی حقائق ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد واقع ہوئے ہیں۔یہ سب سائنسی حقائق اس وقت منظر عام پر آئے جب دنیائے عیسائیت میں نشاۃ ثانیہ کے رنگ میں اصلاح عیسائیت یعنی کی Reformation کی تحریک شروع ہو چکی تھی۔سائنسی ترقی کی رفتار تیز ہونے اور اس طرح نیچر کی اصل ماہیت کو سمجھنے میں انقلابی تبدیلی آنے کے ساتھ ساتھ کائنات کے بارہ میں بائبل اور جدید طبیعاتی دریافتوں کے منظر ناموں میں اختلاف وسیع سے وسیع تر ہو تا چلا گیا۔بعض دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ اس اختلاف نے معاشرہ کے سمجھ بوجھ رکھنے والے طبقوں میں سرے سے خدا کی ہستی ہی کے انکار کے مہلک رجحان کو جنم دیا۔بعد ازاں جب تعلیم کا دور دورہ ہوا اور اس کی روشنی دور دور تک پھیلی۔بڑی بڑی یونیورسٹیاں، جامعات اور مراکز علوم افزائش دہریت کے مراکز میں تبدیل ہوتے چلے گئے کائنات اور اس کے نظام کو سمجھنے میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جس الجھن سے دوچار ہونا پڑاوہ یہ تھی کہ خدا کے قول (بائبل) اور خدا کے فعل (نیچر اور اس کے نظام میں تضاد واضح سے واضح تر ہو تا چلا جارہا تھا۔خدا کی ہستی کے خلاف دماغوں میں جڑ پکڑنے والے استدلال نے یہ نوعیت اختیار کی کہ اگر کائنات اور اس میں پائے جانے والے جملہ اجسام و اجرام کا خالق خدا ہے اور انسانی دماغ کے دریافت کردہ قوانین قدرت کو وضع کرنے اور نظام قدرت چلانے والا بھی وہی ہے تو وہ ان تمام چیزوں کا خالق ہوتے ہوئے ان حقائق سے خود اس قدر نابلد اور لاعلم کیوں تھا کہ وہ بائبل کے ذریعہ یکسر متضاد با تیں انسانوں پر ظاہر کرتا چلا گیا۔جب ہم بائبل میں درج شدہ یہ باتیں پڑھتے ہیں کہ زمین و آسمان کس طرح پیدا کئے گئے اور یہ کہ آدم کو مٹی سے کیسے تخلیق کیا گیا اور پھر آدم کی پسلی سے حوا کو کیونکر معرض وجود میں لا یا گیا؟ (خدا کے قول یعنی بائبل اور اس کے فعل یعنی نیچر میں تضاد کی بے شمار مثالوں میں سے ہم نے یہاں ان دو مثالوں کے ذکر پر ہی اکتفا کیا ہے ) تو ابتدائے آفرینش سے متعلق سائنسی نظریات اور اس بارہ میں عہد نامہ قدیم کے باب ائش میں درج شدہ تفصیلات کے مابین واضح، بین اور کھلے کھلے تضاد کو دیکھ کر حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔سائنسی دریافتوں سے میل نہ کھانے والی بائبل کی ایسی بے جوڑ اور متضاد باتوں نے کلیسیا کو اس کے کلی اور ہمہ جہتی سیاسی اقتدار کے زمانہ میں ظالمانہ روش اپنانے کی طرف مائل کر دیا۔اس کی جانی پہچانی ایک معروف مثال وہ قضیہ ہے جو کلیسیا اور گلیلیو (Galileo) نامی سائنس دان کے مابین رونما ہو کر بہت ناگوار