مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page xii
xi پیش لفظ مروجہ مسیحیت کے بارہ میں اپنے نظریات کا نظر ثانی کے رنگ میں از سر نو جائزہ لے سکتا ہے۔اپنے اس حق کی رُو سے وہ نظریات کو مختلف زاویہ نگاہ سے جانچنے اور پرکھنے سے رک نہیں سکتا۔میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گز مسیحیوں اور مسیح کے مابین کوئی ایسی روک یا پچر حائل نہیں کرنا چاہتا کہ جو انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنے والی ہو۔برخلاف اس کے میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ مسیحی حضرات مسیح کی اصل ماہیت و حقیقت کے قریب آکر اس کا صحیح عرفان حاصل کریں اور اس کی ذات کے گرد جو افسانوی خول چڑھادیا گیا ہے اسے اتار ڈالیں۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مرور زمانہ سے حقیقت بگڑ کر افسانوں اور قصے کہانیوں کارنگ اختیار کر لیتی ہے۔ایسے قصے اور افسانے انسان کو زندگی کے اصل حقائق سے دور لے جانے کا موجب بن جایا کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں مذہب یکسر ایسے خیالی اور تصوراتی روپ میں ڈھل جاتا ہے جس کا اصل حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہو تا۔برخلاف اس کے حقیقی اور اصلی مذہب کی جڑیں تاریخی حقائق اور سچائیوں میں پیوست ہوتی ہیں اسی لئے اصلی اور حقیقی مذہب انسانی معاشرہ میں نمایاں تبدیلیاں لانے کی اہلیت اپنے اندر رکھتا ہے۔اس لحاظ سے مسیح کے اہل مذہب اور اس کی تعلیم کو جاننے اور سمجھنے کے لئے حقیقت کو کہانیوں سے سچائی کو افسانوی قصوں سے جدا اور پاک کرناضروری ہے۔میری اس کوشش اور کاوش کا اصل مقصد بھی تلاش کر کے حق تک پہنچنا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ مسیحی حضرات ٹھنڈے دل اور پوری توجہ سے میری اور بات سنیں گے اور یہ بات سمجھ جائیں گے کہ میں ہر گز کسی کے عقائد یا جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ عیسائیت اخلاقی گراوٹ کے چنگل میں پھنسنے کے بعد اس لحاظ سے مسلسل پستی کی طرف جارہی ہے اور اس اخلاقی گراوٹ کو روک کر اسے دوبارہ اخلاقی بلندیوں کی سمت میں گامزن کرنا خود مسیحیوں کے لئے کارِ دارد بنا ہوا ہے۔اس ناگوار صورت حال سے نکلنے کی خاطر عیسائی دنیا کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس صورت حال کی اصل وجوہات کا تنقیدی نظر سے جائزہ لے۔میرے تجزیہ کے مطابق اس زمانہ کے نوجوانوں کا خدا کی ہستی پر سے ایمان تیزی سے اٹھتا جارہا ہے۔ایک وقت تھا کہ جب سائنس دانوں میں خدا سے انحراف کا رجحان اس لئے پیدا ہوا کہ انہوں نے دیکھا اور اس امر پر غور کیا کہ نیچر اور کائنات کے متعلق بائبل میں جو کچھ درج ہے اس کا اصل حقائق سے کوئی واسطہ نظر نہیں آتا۔انہوں نے محسوس کیا کہ بائبل پر ایمان رکھنے والے عیسائیوں کی تفہیم حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔وہ یہ دیکھ