مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page xi
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک X انا جیل کے بعض دعاوی ان کی مختلف النوع تشریحات کی وجہ سے مزید تصفیہ طلب بنے بغیر نہیں رہتے۔پھر ایک مشکل باہم ٹکر انے والی ان توجیحات کی وجہ سے بھی پیش آتی ہے جو مرور زمانہ کے ساتھ رونما ہوتی اور پنپتی رہی ہیں۔وقتاً بعد وقت ابھرنے اور پنپنے اور ایک دوسرے کے ساتھ ٹکر انے والی ان توجیحات نے بھی مسیح کی شخصیت کو اپنی زد اور لپیٹ میں لے کر اسے چیستاں بنا چھوڑا ہے۔اس طرح تاریخی پس منظر دھندلا جاتا اور یکسر مہم ہو کر رہ جاتا ہے۔کسی بھی معیار اور پیمانہ کی روسے کیوں نہ دیکھا اور پر کھا جائے دور مسیح کے زمانہ بعید سے تعلق رکھنے والے واقعات کو جانچنے اور پر کھنے کی راہ میں دو ہزار سال کے فاصلہ کا حائل ہونا کوئی معمولی رکاوٹ نہیں ہے۔انسانی منطق اور استدلال کو (جبکہ نئے سائنسی علوم کی معاونت بھی اسے حاصل ہو چکی ہے) ایک ایسی منطق اور استدلال کی حیثیت حاصل ہے جس کا نہ کوئی عقیدہ ہے اور نہ کسی مذہبی ملک کا وہ پابند ہے اور نہ ہی کسی مخصوص رنگ و نسل کی آمیزش کا دخل اس میں ممکن ہے۔اسی لئے جملہ اقوام اور مذاہب کے مابین اسے ایک مشترکہ قدر کی حیثیت حاصل ہے۔لہذا ایک ایسے متفقہ نظریہ تک پہنچنے کے لئے جو سب کے نزدیک قابل قبول ہو صرف اور صرف منطقی استدلال ہی واحد بنیاد کا کام دے سکتا ہے۔میں مسئلہ کا متعدد جہتوں سے جائزہ لینے کی کوشش کروں گا تا کہ اس کے مختلف پہلو پورے طور پر نگاہ میں آسکیں۔میں اپنی اس کوشش کا پہلے مسیحیت کے نقطۂ نظر سے ہی آغاز کرتا ہوں۔میں مسئلہ کا پہلے اسی نقطۂ نظر سے جائزہ لوں گا جس نقطۂ نظر سے مسیحی حضرات اسے دیکھنے کے عادی ہیں۔پھر میں عقل کے محدب شیشہ کی مدد سے اس نقطۂ نظر کا تنقیدی تجزیہ پیش کروں گا۔تاہم میں یہ بات بہمہ طور پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ تنقیدی تجزیہ پیش کرنے کے دوران اس امر کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ میں کسی لحاظ سے بھی مسیحی حضرات یا خود یسوع مسیح کی شخصیت کے ادب و احترام کو مجروح کرنے کا خیال بھی دل میں لا سکوں۔وجہ اس کی ظاہر وباہر ہے اور وہ یہ کہ میں ایک مسلمان ہوں اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے یسوع مسیح کی صداقت پر ایمان لانا اور انہیں غیر معمولی عزت و احترام کا حامل پیغمبر تسلیم کرنا اور انبیائے بنی اسرائیل میں انہیں فی ذاتہ لاثانی درجہ و مقام رکھنے والا نبی یقین کرنامیرے عقائد کا ایک بنیادی جزو ہے۔لیکن اس امر کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ جب سچائی کھل جائے اور حق بات واضح ہو کر سامنے آجائے تو پھر منطقی استدلال، عقل عمومی اور فہم و ادراک کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ