مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page x
پیش لفظ موجودہ دنیا کے تناظر میں مسیح کی ذات کو بوجوہ غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی ذات کی یہ غیر معمولی اہمیت صرف مسیحی دنیا تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دوسرے مذاہب اور ان میں سے علی الخصوص یہودیت اور اسلام کے نزدیک بھی مسیح کی ذات کچھ کم اہمیت کی حامل نہیں۔اگر مسیح کی ذات کی نوعیت و ماہیت اور اس کی آمد اول اور موعودہ آمد ثانی کے بارہ میں وسیع اثر ورسوخ رکھنے والے یہ مقتدر مذاہب کسی ایک مشترکہ تفہیم یا نظریہ پر باہم متفق ہو جائیں تو اس سے ان بہت سے مسائل کے حل ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جس سے فی زمانہ نوع انسانی دوچار ہے۔بد قسمتی یہ ہے کہ مسیح کی زندگی سے تعلق رکھنے والے حقائق، اس کی آمد کے مقصد ، اس کی نظریاتی بنیاد اور اس کی شخصیت یا ذات کو صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس کی زندگی کے ان جملہ پہلوؤں کو عجیب و غریب معانی پہنا دیئے گئے ہیں۔یہاں تک کہ مسیح کی ذات اور زندگی کے ان سب پہلوؤں کے متعلق جملہ مذاہب کے ادراک و نظریات میں اس قدر شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے خود مذاہب کے مابین گہری رقابت اور مخاصمت کا پید اہونا ناگزیر ہے۔جب ہم مسیح کو صلیب دیے جانے کے حقائق و واقعات پر نظر ڈالتے ہیں اور جو کچھ وقوع پذیر ہوا اس غور کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں اور کس طرح ہوا۔اور پھر نجات کے مسیحی نظریہ اور اس کی فلاسفی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مختلف ابتدائی ماخذوں سے ان سب امور کے مختلف اور بسا اوقات متضاد جو اب ملتے ہیں۔میں نے کتاب ہذا میں اس سارے معاملہ کا منطقی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔کیونکہ منطقی نقطہ نظر ہی ذہنی اور فکری لحاظ سے ایک ایسا پلیٹ فارم یا مقام اتصال کی حیثیت رکھتا ہے جو سب کے مابین مشترک ہے۔اسے تعمیری اور با مقصد تبادلہ خیالات کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔بصورت دیگر محض انا جیل کے بیانات اور ان کی متعدد تشریحات کی بنیاد پر کئے جانے والا کوئی بھی تبادلہ خیال مباحثہ و مجادلہ کی ایسی الجھن میں ڈالنے کا موجب بنے گا کہ اس گنجلک سے باہر نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔دو ہزار سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اناجیل اربعہ کو بنیاد بنانے اور ان پر ہی حصر کرنے سے مذکورہ بالا امور کا کوئی ایسا حل سامنے نہیں آسکا جو سب کے لئے یکساں طور پر قابل قبول ہو۔اس بارہ میں اشکال یہ در پیش ہے کہ پر