چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 19
19 نہ کوئی خشک چیز مگر وہ ایک کھلی کھلی کتاب میں موجود ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام : 19) یعنی ہم نے اس کتاب میں کچھ بھی کمی نہیں کی سیدنا حضرت امیر المومنین علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جس کا علم قرآن مجید میں موجود نہ ہو لیکن لوگوں کی عقلیں اور فہم اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔اسی طرح آپنے فرمایا ہے کہ ہر ایک کتاب کا ایک خالص اور بہترین حصہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا خالص اور بہترین حصہ اس کے حروف تہھتی ہیں۔اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص کی اُونٹ باندھنے کی رسی گم ہو جائے تو وہ ضرور اُسے بھی قرآن کریم میں پالے گا۔حتی کہ مشہور مفسر قرآن و متکلم اسلام حضرت علامہ ابو الحكم عبدالرحمان ابن برجان رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی نے تو قرآنی آیت القرة غُلِبَتِ الروم في ادنى الْأَرْضِ سے استنباط کر کے نصف صدی سے بھی زائد عرصہ قبل کر دیا تھا کہ تشنہ ہجری میں بیت المقدس دوبارہ فتح ہو جائے گا۔سو جیسا انہوں نے فرمایا تھا ویسا ہی وقوع میں آیا۔