چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 178 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 178

14A ار فیوض النمیر کے سر چشمہ سے ہر قسم کے ظاہری و باطنی علوم کے حامل ہوں گے اور پہلے نبیوں کے تمام علوم اقتصاد مہدی کے خواص اور اُن کے ذہین افراد میں مہدی موعود کی برکت سے ظاہر ہونگے۔لیسواں نشان (ذو القعده ماه اکتوبر نشده) ۴۰ چودھویں صدی کے آخری سال ۲۹ ر ذو القعدہ ۱۳ مطابق ار اکتوبر شاہ کو سلم اسی کے دارالخلافہ قوطی کے سقوط (۱۳۳۰) سے قریبا ساڑھے سات سو سال کے بعد حضرت مہدی موعود کے نافلہ موجود اور خلیفہ ثالث سید نا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کے دست مبارک سے مسجد قرطبہ کا سنگ بنیاد رکھا جانا نہ صرف ایک تاریخ ساز اور انقلاب انگیز واقعہ ہے بلکہ اسلام اور خاتم الاخیار حفتر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا بھی دائمی نشان ہے کیونکہ بھگوئی کامل مجدد اسلام حضرت امام عبد الوہاب شعرانی (وفات ) نے قریباً چار صدیاں پیشتر اپنی کتاب مختصر تذکرہ قرطبی میں یہ تعجب انگیز پیش گوئی کی تھی کہ اسپین پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد دوبارہ اس کی فتح مہدی موعود کے زمانہ میں تکبیر یعنی خدائے ذوالجلال کی کبریائی کے ذریعہ سے ہوگی اور اہل سپین مہدی موعود سے شریعت محمدی کے