چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 88
AN ہندوستان کے مشرقی ملک میں اور کہا کہ بستی میں ہوگا۔یہ نشان بھی چودھویں صدی میں پورا ہوا۔(الف) يَخْرُجُ نَاسٌ مِّنَ الْمَشْرِقِ فَيُوَقِّنُونَ لِلْمَهْدِي سُلْطَانَهُ ، " كر العمال جلد ملكا للشيخ علاء الدين على المنتقى الهندى متوفی ۱۹۷۵ حیدر آباد دکن ۱۳۱۴ هـ ) ملک عرب سے مشرق کے علاقہ کے لوگ (یعنی ہندوستانی) مهدی کی روحانی حکومت کو اپنے وطن میں قائم کریں گے۔(ب) عن انس قَالَ سَمِعْتُ خَلِيلِى يَقُولُ لَا يَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَصَابَتَيْنِ حَرَّمَ الله عَلَيْهِمَا النَّارَ عَصَابَةُ تَغْرُوا الهندو هيَ تَكُونُ مَعَ الْمَهْدِي اِسْمُهُ أَحْمَدُ : الخ البخاري في تاريخه والرافعى فى كتاب المهدى و ابن مرد و بیه و ابن شاهين وابن ابى الدنيا تو جمہ : حضرت انس نے فرمایا کہ شنا میکں نے اپنے خلیل رسول اللہ) سے کہ نہیں کھڑی ہو گی قیامت یہاں تک کہ بھیجے اللہ برتر دو جما محنتوں کو کہ حرام کیا ہے اللہ نے اُن دونوں پر