چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 33 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 33

۳۳ بعد علامات مکمل طور پر ظاہر ہوں گی اور وہی زمانہ مہندی کے ظہور کا ہے“ حضرت امام علی القادری کی یہ تشریح حرف بحرف صحیح نکلی کیونکہ کچھ شک نہیں کہ بڑے بڑے فتنے تیرھویں صدی میں ہی ظہور میں آئے۔نصاری نے خوب بلندی حاصل کی اور دقائیت کے طوفان نے اس صدی میں پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لیا (مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ اور مسلمان در گور و مسلمانی در کتاب کا درد ناک نقشہ آنکھوں کے سامنے ودره پھر گیا اور صدہا اسلامی ریاستیں خاک میں مل گئیں جیسا کہ علام الطاف حسین خاکی نے ۱۲۹۶ ہجری میں فرمایات وہ دین ہوئی بزم جہاں میں سے چراغاں اب اُس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکم قضا ہے فریاد ہے اسے کشتی اُمت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے یہی وہ زمانہ تھا جبکہ ریورنڈ پادری عماد الدین نے نہایت لعلاق سے اپنے خط شکاگو میں لکھا :-