چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 165 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 165

۱۶۵ دامن میں ایک نئے مرکز کی تلاش میں ہوں حضور کی یہ رویا انتالیس سال قبل الفضل ۱۲۱ دسمبر ۲۱۹۴۱ ص میں چھپ چکی ہے۔۱۳۹۷ ۱۹۴۰ تینتیسواں نستان ) ) " ترجمان القرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگرا کا برا مت نے آیت قرآنی فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لفيفا ( بنی اسرائیل : ۰۵) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے طور پر بیود نامسعود (عذاب الہی کا مورد بننے کے لیے فلسطین میں جمع ہو جائیں گے در منشور از حضرت جلال الدین سیوطی جلد ۳ ۱۳ بحارالانوار جلد ص۲۲ از حضرت باقر مجلسی) مئی ۱۹۴۷ء میں اسرائیلی حکومت کے قیام سے یہ خبر بھی پوری ہوگئی جو صداقت اسلام کا واضح نشان ہے۔ایک پاکستانی فاضل و ادیب جناب طغرل ترکمان روزنامه آفتاب (ملتان) مورخہ د ستمبر ۱۹۷۹ء میں رقمطراز ہیں: - اللہ تعالیٰ جل شانہ نے (اپنے انبیاء سکین کلیم السلام اور اُن پر وحی کے ذریعے دنیا میں جو کچھ پیش آنا تھا پہلے ہی بیان کر دیا تھا اور چودھویں و پندرھویں صدی ہجری کو حضرت تمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے ارشادات کے مطابق اسلام