چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 117
116 کہتا ہوں کہ گالیاں دنیا اور بد زبانی کرنا طریق مشرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکھٹے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں اور روروکو میرا استیصال چاہیں پھر اگر یکی کا ذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں لیکن اد رکھیں کہ اگر آپ ست در دعائیں کریں کہ زبانوں میں نظم پڑھائیں اور اس قدر رو رد کر سجدوں میں گوریں کرناکی گھس جائیں اور آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گرید و زادی سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائینگی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں “ اربعین امت - روحانی خزائن جلد ۱ ص۴۷-۴۷۲) اپنی جانوں پرظلم مت کرو۔کا ذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔۔۔۔جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکر زمین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔خدا