حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 75 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 75

75 الامة۔۔۔۔۔۔۔ايهـا الـمـكـذبـون الكذابون۔مالكم لا تجيئُون ولا تناضلون وتدعون ثم لا تبارزون ويل لكم ولما تفعلون يمعشر الجهلين۔“ ( المعلن غلام احمد قادیانی ۲۶ مئی ۱۸۹۷ء) (حجۃ اللہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۴۰) ترجمہ :۔اور اگر کوئی شخص اس کتاب جیسی کتاب تین یا چار ماہ کے اندر لکھ سکے تو واقعہ اس نے مجھے جھوٹا ثابت کر دیا اور اس نے گویا ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں۔تو کیا اس بستی میں کوئی ذی روح ایسا ہے جو یہ کام کر کے دکھلا سکے اور اُمت کو تفرقہ سے بچا سکے۔۔۔۔اسے جھوٹو اور مجھے جھٹلانے والو تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم مقابلہ کیلئے میدان میں کیوں نکل کھڑے نہیں ہوتے اور دعا نہیں کرتے۔اے جاہلوں کے گروہ تم پر ہلاکت ہو تم ایسا کیوں نہیں کرتے۔الهدى والتبصرة لمن يرى حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب اعجاز مسیح “ کا ایک نسخہ تقریظ کیلئے علامہ الشیخ محمد رشید رضا مدیر المنار کو بجھوایا۔الشیخ رشید محمد رضا نے اس کتاب پر سخت تنقید کی اور ساتھ یہ کہا ان كثيرا من اهل العلم يستطيعون ان يكتبوا خيرا منه في سبعة ايام یعنی بہت سے اہل علم اس سے بہتر سات دن میں لکھ سکتے ہیں۔جب اس کا ریو یو ہندوستان میں شائع ہوا تو علمائے ہند نے اس کی آڑ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف از سر نو مخالفت کا ایک طوفان برپا کر دیا۔تب آپ نے احقاق حق اور ابطال باطل اور اتمام حجت کیلئے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی چاہی تو آپ کے دل میں ڈالا گیا کہ آپ اس مقصد کیلئے ایک کتاب تالیف فرما ئیں اور پھر مدیر المنار اور ہر اس شخص سے جو ان شہروں میں