حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 287
287 یہی قرار دیا جائے گا کہ اگر وہ پیشگوئی صاحب مقابل کی رائے میں کچھ ضعف یا شک رکھتی ہے یا ان کی نظر میں قیافہ وغیرہ سے مشابہ ہے تو اسی عرصہ چالیس روز میں وہ بھی ایسی پیشگوئی ایسے ہی ثبوت سے ظاہر کر کے دکھلا دیں اور اگر مقابلہ سے عاجز رہیں تو پھر حجت ان پر تمام ہوگی اور بحالت سچے نکلنے پیشگوئی کے بہر حال انہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور یہ تحریریں پہلے سے جانبین میں تحریر ہو کر انعقاد پا جائیں گے چنانچہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے وقت سے یعنے ۲۰۔ستمبر ۱۸۸۶ء سے ٹھیک تین ماہ کی مہلت صاحبان موصوف کو دی جاتی ہے اگر اس عرصہ میں ان کی طرف سے اس مقابلہ کیلئے کوئی منصفانہ تحریک نہ ہوئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ گریز کر گئے۔والسلام علی من اتباع الہدی۔المشتهر خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب عیسائیوں کو نشان نمائی کے مقابلہ کے چیلنج عبداللہ آتھم کو نشان نمائی کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۳ء میں مسٹر عبداللہ آ ھم کو امرتسر میں ہونے والے مباحثہ کے دوران فیصلہ کیلئے نشان نمائی کا درج ذیل چیلنج دیا۔”اب میں اس مجلس میں ڈپتی عبد اللہ آتھم صاحب کی خدمت میں اور دوسرے تمام حضرات عیسائی صاحبوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اس بات کو اب طور دینے کی کیا حاجت ہے کہ آپ ایسی پیشگوئیاں پیش کریں جو حضرت مسیح کے اپنے کاموں