حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 9 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 9

9 اس تار کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۴ را پریل کو ایک خط لکھا اور ایک خاص آدمی کے ذریعہ مولوی محمد حسین صاحب کو لاہور پہنچایا۔اس خط میں آپ نے تحریر فرمایا۔بات تو صرف اس قدر تھی کہ حافظ محمد یوسف صاحب نے مولوی مدوح کی خدمت میں خط لکھا تھا کہ مولوی عبد الرحمن صاحب اس جگہ آئے ہوئے ہیں۔میں نے ان کو دو تین روز کیلئے ٹھہرا لیا ہے تا ان کے روبرو ہم بعض شبہات آپ سے دور کرا لیں اور یہ بھی لکھا کہ اس مجلس میں ہم مولوی محمد حسین صاحب کو بھی بلا لیں گے۔چنانچہ مولوی موصوف حافظ صاحب کے اصرار کی وجہ سے لاہور پہنچے اور منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر اترے اور اس تقریب پر حافظ صاحب نے اپنی طرف سے آپ کو بھی بلا لیا تھا۔مولوی عبدالرحمن صاحب تو عین تذکرہ میں اٹھ کر چلے گئے اور جن صاحبوں نے آپ کو بلایا تھا۔انہوں نے مولوی صاحب کے آگے بیان کیا کہ ہمیں مولوی محمد حسین صاحب کا طریق بحث پسند نہیں آیا۔یہ تو سلسلہ دو برس تک ختم نہیں ہوگا۔آپ خود ہماے سوال کا جواب دیجئے۔ہم مولوی محمد حسین صاحب کے آنے کی ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ انہوں نے آپ کو بلایا ہے۔تب جو کچھ ان لوگوں نے پوچھا۔مولوی صاحب موصوف نے بخوبی ان کی تسلی کرا دی۔یہاں تک کہ تقریر ختم ہونے کے بعد حافظ محمد یوسف صاحب نے بانشراح صدر بآواز بلند کہا کہ اے حاضرین میری تو مِنْ كُلِّ الْوُجُوه تسلی ہوگئی۔اب میرے دل میں نہ کوئی شبہ اور نہ کوئی اعتراض باقی ہے۔پھر بعد اس کے یہی تقریر منشی عبدالحق صاحب اور منشی الہی بخش صاحب اور منشی امیرالدین صاحب اور میر زادہ امان اللہ صاحب نے کی۔اور بہت خوش ہو کر ان سب نے مولوی صاحب کا شکر یہ ادا کیا اور تہہ دل سے قائل ہو گئے کہ اب کوئی شک باقی نہیں اور مولوی صاحب کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ ہم نے محض اپنی تسلی کرانے کیلئے آپ کو تکلیف دی تھی سو ہماری بکلی تسلی ہوگئی آپ بلا جرح