حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 8
8 اعتبار ہو جاتے اور یہ کہ اسی نے آپ کو حامی اسلام بنا رکھا تھا۔لکھا:۔لہذا اسی اشاعۃ السنہ کا فرض اور اس کے ذمہ یہ ایک قرض تھا کہ اس نے جیسا کہ اس کو دعاوی قدیمہ کی نظر سے آسمان پر چڑھایا تھا ویسا ہی ان دعاوی جدیدہ کی نظر سے اس کو زمین پر گرا دے اور تلافی مافات عمل میں لاوے اور جب تک یہ تلافی پوری نہ ہو لے تب تک بلاضرورت شدید کسی دوسرے مضمون سے تعرض نہ کرے۔“ (اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر ۱ ۳ صفحه ۴۳) اس کے بعد لاہور کے چند احباب کی خواہش پر حضرت مولوی حکیم نورالدین ۱۳ را پریل ۱۸۹۱ء کو لاہور پہنچے اور منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر فروکش ہوئے۔۱۴؍ اپریل کی صبح کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی بلایا گیا۔جب وہ تشریف لائے تو حافظ محمد یوسف صاحب نے فرمایا کہ:۔آپ کو اس غرض سے بلایا ہے کہ آپ مرزا صاحب کے متعلق حکیم صاحب سے گفتگو کریں مولوی محمدحسین صاحب نے کہا کہ قبل از بحث مقصود چند اصول آپ سے تسلیم کرانا چاہتا ہوں اور ان اصولوں سے متعلق گفتگو ہوئی۔گفتگو کے بعد اپنے طور پر ان دوستوں نے آپ سے وفات مسیح و حیات مسیح اور یہ کہ حضرت عیسی صلیب پر نہیں مرے تھے وغیرہ امور سے متعلق باتیں سنیں اور چونکہ آپ کو واپس جانا ضروری تھا اسلئے آپ لاہور بلانے والوں سے اجازت لے کر واپس لدھیانہ پہنچ گئے۔اسکی تفصیلی رپورٹ ضمیمہ پنجاب گزٹ مورخہ ۲۵ را پریل ۱۸۹۱ء میں درج ہے۔۱۵ را پریل کو مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس مضمون کا تار دیا۔تمہارے ڈیسائیپل (حواری) نورالدین نے مباحثہ شروع کیا اور بھاگ گیا۔اس کو واپس کریں یا خود آدیں ورنہ یہ متصور ہوگا کہ اس نے شکست کھائی (اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر ۲ صفحه ۴۶)