حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 6
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس دعویٰ کے منظر عام پر آتے ہی مخالفت کی آگ مشتعل ہونا شروع ہو گئی اور آپ کے مداح اور قریبی علماء بھی آپ کے مخالف ہو گئے۔مولوی محمد حسین بٹالوی جو اپنے مشہور رسالہ ” اشاعۃ السنہ میں آپ کی شہرہ آفاق کتاب براہین احمدیہ پر ایک نہایت مبسوط تبصرہ لکھ کر آپ کے مناصب جلیلہ کی تائید کر چکے تھے وہ بھی آپ کے خلاف مضامین شائع کرنے لگے۔اس طرح وفات وحیات مسیح کے مسئلہ پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا جس کے نتیجہ میں آپ نے ضروری اشتہار کے عنوان سے تمام علماء اور پبلک پر اتمام حجت کی غرض سے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں علماء کو مسئلہ وفات و حیات مسیح پر بحث کرنے کی دعوت دی۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔” اور میں بآواز بلند کہتا ہوں کہ میرے پر خدا تعالی نے اپنے الہام اور القاء سے حق کو کھول دیا ہے اور وہ حق جو میرے پر کھولا گیا ہے وہ یہ ہے کہ در حقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کی روح اپنے خالہ زاد بھائی بیٹی کی روح کے ساتھ دوسرے آسمان پر ہے۔اس زمانہ کے لئے جو روحانی طور پر مسیح آنے والا تھا جس کی خبر احادیث صحیحہ میں موجود ہے وہ میں ہوں۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو لوگوں کی نظروں میں عجیب اور تحقیر سے دیکھا جاتا ہے اور میں کھول کر کہتا ہوں کہ میرا دعویٰ صرف منی بر الہام نہیں بلکہ سارا قرآن شریف اس کا مصدق ہے۔تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کی شاہد ہیں۔عقل خدا داد بھی اس کی مؤید ہے۔اگر مولوی صاحبوں کے پاس مخالفانہ طور پر شرعی دلائل موجود ہیں تو وہ جلسہ عام کر بطریق مذکورہ بالا مجھ سے فیصلہ کریں ( اور واضح رہے کہ اس اشتہار کے عام طور پر وہ تمام مولوی صاحبان مخاطب ہیں جو مخالفانہ رائے ظاہر کر رہے ہیں اور خاص طور پر ان سب کے سر کردہ یعنی مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی۔مولوی عبدالجبار صاحب