حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 166
166 کے اپنا بیان بھی بحوالہ اپنی کتاب کے تحریر کر سکتا ہو۔تا ناحق ہمارے اوقات کو ضائع نہ کرے۔اور اگر اب بھی کوئی نامنصف ہمارے اس صاف صاف منصفانہ طریق سے گریز اور کنارہ کر جائے اور بدگوئی اور دشنام دہی اور تو ہین اسلام سے بھی باز نہ آوے تو اس سے صاف ظاہر ہو گا کہ وہ کسی حالت میں اس لعنت کے طوق کو اپنے گلے سے اتارنا نہیں چاہتا کہ جو خدائے تعالیٰ کی عدالت اور انصاف نے جھوٹوں اور بے ایمانوں اور بدزبانوں اور انجیلوں اور متعصبوں کے گردن کا ہار کر رکھا ہے۔والسلام على من التبع الهدى - بالآ خر واضح رہے کہ اس اشتہار کے جواب میں ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء سے تین ماہ تک کسی پنڈت یا پادری جواب دہندہ کا انتظار کیا جائے گا اور اگر اس عرصہ میں علماء آریہ وغیرہ خاموش رہے تو انہیں کی خاموشی ان پر حجت ہوگی۔المشـ خاکسار غلام احمد مؤلف رساله سرمه چشم آریہ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۳۱۴۰۳۱۳) الله تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اسلام ، قرآن ، آنحضرت ﷺ اور اپنے متعلق اعتراضات پیش کرنے پر جواب دینے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:۔”ہم نے ارادہ کیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں جس قدر مختلف فرقے اور مختلف رائے کے آدمی اسلام پر یا تعلیم قرآنی پر یا ہمارے سید ومولیٰ جناب عالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے ہیں یا جو کچھ ہمارے ذاتی امور کے متعلق نکتہ چینیاں کر رہے یا جو کچھ ہمارے الہامات اور ہمارے الہامی دعاوی کی نسبت ان کے دلوں میں شبہات اور وساوس ہیں ان سب اعتراضات کو ایک رسالہ کی صورت پر نمبر وار مرتب کر کے