حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 66 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 66

66 العربيه واعطيت بسطة كاملة في العلوم الادبية۔“ یعنی عربی زبان میں باوجود میری کمی کوشش اور کوتا ہی جستجو کے جو مجھے کمال حاصل ہے وہ میرے رب کی طرف سے ایک کھلا نشان ہے تا وہ لوگوں پر میرے علم اور میرے ادب کو ظاہر کرے۔پس کیا مخالفوں کے گروہوں میں سے کوئی ہے جو میرے مقابلے پر آوے اور اس کے ساتھ مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھایا گیا ہے اور مجھے عربی علوم پر پوری وسعت عطا کی انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۲۳۴) گئی ہے۔اور ضرورت الامام میں فرماتے ہیں۔میں قرآن مجید کے معجزہ کے ظل کے طور پر فصاحت و بلاغت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں جو میرا مقابلہ کر سکے۔“ ( ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۶) اور لجة النور میں تحریر فرماتے ہیں۔"كلما قلت من كمال بلاغتى فى البيان فهو بعد كتاب الله القرآن“ یعنی جو کچھ میں نے اپنی کمال بلاغت بیانی سے کہا تو وہ کتاب اللہ قرآن مجید کے بعد 66 دوسرے درجہ پر ہے۔الجبہۃ النور۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۶۴) پھر انشاء پردازی کے وقت تائید الہی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یہ بات اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“ ( نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۶) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فصیح و بلیغ عربی میں میں سے زیادہ کتابیں لکھنا تائید الہی سے تھا۔آپ کے اکتسابی علم کا نتیجہ نہ تھا۔اس لئے آپ نے نہایت فصیح و بلیغ عربی میں ہیں سے