حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 14 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 14

14 تشریف لاویں اور اگر یورپین افسر نہ ہوں تو کوئی ہند و مجسٹریٹ ہی ہوں تا ایسا شخص کسی کا طرفدار نہ ہو۔۲۔یہ کہ فریقین کے سوال و جواب لکھنے کیلئے کوئی ہند و منشی تجویز کیا جائے جو خوشخط ہو۔ایک فریق اول اپنا سوال مفصل طور لکھا دیوے۔پھر دوسرا فریق مفصل طور پر اُس کا جواب لکھا دیوے۔چند سوال میں فریق ثانی سائل ہو اور یہ عاجز مجیب اور پھر چند سوال میں یہ عاجز سائل ہوا اور فریق ثانی مجیب اور ہر یک فریق کو ایک گھنٹہ تک تحریر کا اختیار ہو۔سوال جواب کی تعداد برابر ہو اور ہمیں وہی تعداد اور اسی قدر وقت منظور ہے جو فریق ثانی منظور کرے۔۳۔سوال و جواب میں خلط مبحث نہ ہو اور نہ کوئی خارجی نکتہ چینی اور غیر متعلق امر ان میں پایا جائے۔اگر کوئی ایسی تقریر ہو تو وہ ہرگز نہ کھی جائے بلکہ اس بیجا بات سے ایسی بات کرنے والا موردالزام ٹھہرایا جائے۔۴۔ان سوالات و جوابات کے قلمبند ہونے کے بعد دوبارہ عوام کو وہ سب باتیں سنادی جائیں اور وہی لکھنے والا سنا دیوے۔اور اگر یہ منظور نہ ہو تو فریقین میں سے ہر یک شخص اپنے ہاتھ میں پر چہ لے کر سنا دیوے۔۵۔ہر ایک فریق ایک ایک نقل اس تحریر کی اپنے دستخط سے اپنے مخالف کو دے دیوے۔۶۔آٹھ سے دس بجے تک یہ جلسہ بحث ہوسکتا ہے۔اگر اس سے زیادہ بھی چاہیں تو وہ منظور ہے۔مگر بہر حال نماز ظہر کے وقت یہ جلسہ ختم ہو جانا چاہئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو اختیار ہے کہ بطور خود اس جلسہ میں تشریف لاویں اور اگر دوسرے ان کی وکالت کو منظور کریں تو وہی