حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 315
315 لَستَ مُسلما کر کے پکارا نا کس قسم کی مسلمانی اور ایمانداری ہے۔ماسوا اس کے اگر یہ عاجز بزعم مولوی محمد حسین صاحب کا فر ہے تو خیر وہ یہ خیال کر لیں کہ میری طرف سے جو ظاہر ہوگا وہ استدراج ہے۔پس اس صورت میں بمقابل اس استدراج سے ان کی طرف سے کوئی کرامت ظاہر ہونی چاہئے اور ظاہرہ کہ کرامت ہمیشہ استدراج پر غالب آتی ہے۔آخر مقبولوں کو ہی آسمانی مددملتی ہے۔اگر میں بقول ان کے مردود ہوں اور وہ مقبول ہیں تو پھر ایک مردود کے مقابل پر اتنا کیوں ڈرتے ہیں۔اگر میں بقول ان کے کافر ہونے کی حالت میں کچھ دکھاؤں گا تو وہ بوجہ اولی دکھلا سکتے ہیں مقبول جو ہوئے۔کہ مقبول را رد نباشد و من عاد ولیالی ولیا فقد اذنته للحرب۔ابن صیادے اگر کچھ دکھای تھا تو کیا اس کے مقابل پر معجزات نبوی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔اور دجال کے ساحرانہ کاموں کے مقابل پر عیسی نے نشان مروی نہیں ففروا این تفرون۔) (ازالہ اوہام حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۵،۴۹۴) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے نہ رف ہندوستان کے تمام مسلم علماء ومشائخ کو استجابت دعا کے مقابلہ کی دعوت بی بلکہ جملہ مذاہب کے پیروکاروں کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اب اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی یا آریہ یا یہودی یا برہمو یا کوئی اور ہے اس کیلیے یہ خوبموقع ہے جو میرے مقابل پر کھڑا ہو جائے۔اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائداد غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کے قریب ہو گی اس کے حالہ کر دوں گا۔جس طور سے اس کی تسلی ہو سکے اسی طور سے تاوان ادا کرنے میں اس کو تسلی دوں گا۔میرا خدا واحد شاہد ہے کہ میں ہرگز فرق نہیں کروں آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷۶) "B