حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 302
302 سے صادقوں اور کا ذبوں اور مقبولوں میں فرق ہوسکتا ہے جس کی رو سے صادقوں اور کا ذبوں اور مقبولوں اور مردودوں میں فرق ہو سکتا ہے۔عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر مقبول اور مردود اپنی اپنی جگہ پر خدائے تعالیٰ سے کوئی آسمانی مدد چاہیں تو وہ مقبول کی ضرور مدد کرتا ہے اور کسی ایسے امر سے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہے اس مقبول کی قبولیت ظاہر کر دیتا ہے۔سو چونکہ آپ لوگ اہل حق ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور آپ کی جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں جو لہم ہونے کے مدعی ہیں جیسے مولوی محی الدین وعبد الرحمن صاحب لکھو والے اور میاں عبدالحق غزنوی جو اس عاجز کو کافر اور جہنمی ٹھہراتے ہیں لہذا آپ پر واجب ہے کہ اس آسمانی ذریعہ سے بھی دیکھ لیں کہ آسمان پر مقبول کس کا نام ہے اور مردودکس کا نام۔میں اس بات کو منظور کرتا ہوں کہ آپ دس ہفتہ تک اس بات کے فیصلہ کیلئے احکم الحاکمین کی طرف توجہ کریں تا اگر آپ بچے ہیں تو آپ کی سچائی کا کوئی نشان یا کوئی اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی جو راستبازوں کو ملتی ہے آپ کو دی جائے۔ایسا ہی دوسری طرف میں بھی توجہ کروں گا اور مجھے خداوند کریم و قدیر کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ نے اس طور سے میرا مقابلہ کیا تو میری فتح ہوگی۔میں اس مقابلہ میں کسی پر لعنت کرنا نہیں چاہتا اور نہ کروں گا۔اور آپ کا اختیار ہے جو چاہیں کریں۔لیکن اگر آپ لوگ اعراض کر گئے تو گریز پر حمل کیا جائے گا۔میری اس تحریر کے مخاطب مولوی محی الدین ، عبدالرحمن صاحب لکھو والے اور میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور مولوی نذیر حسین دہلوی ہیں اور باقی انہیں کے زیر اثر آجائیں گے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۵۸،۴۵۷)