حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 291
291 (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۰۳) عیسائیوں ، ہندوؤں ، آریوں اور سکھوں کو نشان نمائی کے مقابلہ کے چیلنج اور مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے کہ اگر کوئی سخت دل عیسائی یا ہندویا آریہ میرے اُن گذشتہ نشانوں سے جو روز روشن کی طرح نمایاں ہیں انکار بھی کر دے اور مسلمان ہونے کیلئے کوئی نشان چاہے اور اس بارے میں بغیر کسی بیہودہ حجت بازی کے جس میں بدنیتی کی بو پائی جائے سادہ طور پر یہ اقرار بذریعہ کسی اخبار کے شائک کر دے کہ وہ کسی نشان کے دیکھنے سے گو کوئی نشان ہو۔لیکن انسانی طاقتوں سے باہر ہو۔اسلام کو قبول کرے گا۔تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہوگا کہ وہ نشان کو دیکھ لیگا کیونکہ میں اُس زندگی میں سے نور لیتا ہوں جو میرے نبی متبوع کو ملی ہے۔کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔اب اگر عیسائیوں میں کوئی طالب حق ہے۔یا ہندوؤں اور آریوں میں سے سچائی کا متلاشی ہے۔تو میدان میں نکلے۔اور اگر اپنے مذہب کو سچا سمجھتا ہے تو بالمقابل نشان دکھلانے کے لئے کھڑا ہو جائے لیکن میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ ہرگز ایسا نہ ہوگا بلکہ بدنیتی سے پیچ در پیچ شرطیں لگا کر بات کو ٹال دینگے کیونکہ ان کا مذہب مُردہ ہے اور کوئی ان کیلئے زندہ فیض رساں موجود نہیں۔جس سے وہ رُوحانی فیض پاسکیں اور نشانوں کے ساتھ چمکتی ہوئی زندگی حاصل کر سکیں۔“ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۱،۱۴۰) میں یقیناً جانتا ہوں کہ ہندوؤں اور عیسائیوں اور سکھوں میں ایک بھی نہیں کہ جو آسمانی نشانوں اور قبولیتوں اور برکتوں میں میرا مقابلہ کر سکے۔یہ بات ظاہر ہے کہ زندہ مذہب