حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 235 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 235

235 کریں اور نیز قادیان میں آکر بالموجہ بھی میرا نام لے کر یہ قسم کھاویں کہ در حقیقت لیکھرام کے قتل میں اس شخص کی شراکت ہے اور اس کی خفیہ سازش سے اس کی موت ہوئی ہے اور اگر یہ میچ نہیں ہے تو ایک سال تک مجھ کو وہ موت آوے جس میں انسان کے منصوبہ کا دخل نہ ہو۔اور ایسا ہی اخبار کے ذریعہ سے اور نیز بالموجہ بھی یہ اقرار کریں کہ اگر میں ایک سال کے اندر حسب منشق ء اس قسم کے مر گیا تو میرا مرنا اس بات پر گواہی ہوگا کہ در حقیقت لیکھرام خدا کے غضب سے اور پیشگوئی کے موافق ہلاک ہوا ہے اور نیز اس بات پر گواہی ہوگی کی درحقیقت دین اسلام ہی سچا دین ہے اور باقی تمام مذاہب جیسا کہ آریہ مت سناتن دھرم اور عیسائی وغیرہ سب بگڑے ہوئے عقیدے ہیں۔اس پر لالہ بشن صاحب ضمیمہ بھارت سدھا را ارا پریل ۱۸۹۷ء اور ہمدرد ہندو ۱۲ اپریل ۱۸۹۷ء میں یہ فضول عذر شائع کرتے ہیں کہ یہ شرط اشتہار ۱۵ را پریل ۱۸۹۷ء میں موجود نہیں تھی۔لہذا ہم ان کو اطلاع دیت یہیں کہ اول تو خود تم نے ہمارے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء کی پابندی اختیار نہیں کی اور اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ جمع کرانے کی شرط زیادہ کر دی۔جس پر ہمارا حق تھا کہ ہم بھی تمہاری اس قدر ترمیم پر جس قدر چاہتے پہلے اشتہار کی ترمیم کرتے اور یہ ایک سیدھی بات ہے کہ آپ نے ہمارے اشتہار کے منشاء سے آگے قدم رکھ کر ایک نئی شرط اپنے فائدہ کے لئے زیادہ کر دی۔اس لئے ہمارا بھی حق تھا کہ ہم بھی نئی شرط کے مقابل پر جس قدر چاہیں بڑھا دیں۔“ مجوعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۸۶،۳۸۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب لالہ گنگا رام صاحب کی تینوں شرطوں کو منظور فرما لیا اور قسم کے الفاظ بھی تحریر کر دیئے تو لالہ گنگا بشن صاحب نے ”ہمدرد ہندو لا ہور ۱۲۔اپریل میں ایک اور شرط کا اضافہ کر دیا اور وہ یہ کہ جب مرزا صاحب (نعوذ باللہ ) جھوٹا ہونے کی صورت میں