حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 228
228 لیکھرام کی ہلاکت کے متعلق پیشگوئی کے بارہ میں چیلنج لیکھرام پشاوری آریہ سماج کا ایک بہت تیز زبان اور شوخ طبیعت پنڈت تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بدگوئی میں تمام آریہ پنڈتوں سے بڑھا ہوا تھا اور قرآن کریم کی آیات کے ایسے ایسے گندے ترجمے شائع کرتا تھا کہ ان کو پڑھنا بھی کسی شریف آدمی کیلئے مشکل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ۱۸۸۵ء میں غیر مسلموں کو اسلام کی صداقت کیلئے نشان نمائی کی دعوت دی تو لیکھرام بھی مقابلہ کیلئے آیا۔مگر چند روز مخالفوں کے پاس رہ کر واپس چلا گیا۔اس کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر پیشگوئی مصلح موعود شائع فرمائی تو لیکھرام نے بھی اس کے بالمقابل حضرت اقدس کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ۔شخص تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائے گا کیونکہ (نعوذ باللہ ) کذاب ہے۔“ نیز یہ بھی لکھا کہ۔دو تین سال کے اندر اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس کی ذریت میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔“ ( تکذیب براہین احمدیہ حصہ دوم۔بحوالہ کلیات آریہ مسافر ۱۶۰) لیکھرام کی اس پیشگوئی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیکھرام کو دعوت دیتے ہوئے فیصلہ کا درج ذیل طریق پیش فرمایا۔”ہند و روشن چشم جو اس الہی کا روبار کا نام فریب رکھ رہا ہے اس کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ ہر چند اب ہمیں فرصت نہیں کہ بالمواجہ آزمائش کے لئے ہر روز نئے نئے اشتہار جاری کریں۔اور خود رسالہ سراج منیر نے ان متفرق کارروائیوں سے ہمیں مستغنی کر دیا ہے لیکن چوکہ اس وزد منش کی رو بہ بازیوں کا تدارک از بس ضروری ہے