حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 212 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 212

212 ( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۰۱) پھر یہی نہیں بلکہ اپنے مخالفین کو چیلنج کیا کہ اگر ان کا بھی خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق ہے تو وہ بھی اس قسم کا دعویٰ شائع کر کے دیکھ لیں۔اگر ان کے مساکن طاعون سے محفوظ رہے تو میں ان کو اولیاء اللہ میں سے سمجھ لوں گا۔چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اس وقت میں نمونہ کے طور پر خدا تعالیٰ کا ایک کلام ان لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں اور بالخصوص اس جگہ مخاطب میرے مولوی ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری اور مولوی عبدالجبار اور عبد الواحد اور عبدالحق غزنوی ثم امرتسری اور جعفر زٹلی لاہوری اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان اسسٹنٹ سرجن تر اوڑی ملازم ریاست پٹیالہ ہیں اور وہ کلام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے۔انی احافظ كل من في الـد و احافظک خسابقہ اس کا بموجب تفہیم الہی یہ ہے کہ میں ہر ایک شخص کو جو تیرے گھر کے اندر ہے طاعون سے بچاؤں گا اور خاص کر تجھے۔چنانچہ گیارہ برس سے اس پیشگوئی کی تصدیق ہو رہی ہے اور میں اس کے کلام کے منجانب اللہ ہونے پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا تعالیٰ کی تمام کتب مقدسہ پر اور بالخصوص قرآن شریف پر۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ خدا کا کلام ہے۔پس اگر کوئی شخص مذکورہ بالا اشخاص میں سے جو شخص ان کا ہمرنگ ہے یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ یہ انسان کا افتراء ہے تو اسے لازم ہے کہ وہ قسم کھا کر ان الفاظ کے ساتھ بیان کرے کہ یہ انسان کا افتراء ہے خدا کا کلام نہیں ولعنت اللہ علی من کذب وحی اللہ۔جیسا کہ میں بھی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا کا کلام ہے ولعنت اللہ علی من افتری علی اللہ۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا اس راہ سے کوئی فیصلہ کرے۔اور یادر ہے کہ میرے کسی کلام میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ہر ایک شخص جو بیعت کرے وہ طاعون سے محفوظ رہے گا بلکہ یہ ذکر ہے کہ والذین