حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 141 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 141

141 مخالفین کا رد عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس چیلنج کے بعد آپ کے ایک مخالف حافظ محمد یوسف ضلعدار نے بعض مولویوں کی تحریک پر اس چیلنج کو توڑنے کا اعلان کر دیا اور لاہور میں بعض احمدی احباب کی موجودگی میں یہ بیان دیا کہ: ایسے کئی لوگوں کا نام میں نظیر پیش کر سکتا ہوں جنہوں نے نبی یا رسول یا مامورمن اللہ ہونے کا دعوی کیا اور تئیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کو سناتے رہے کہ خدا کا کلام ہمارے پر نازل ہوتا ہے حالانکہ وہ کا ذب تھے۔“ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار انعامی پانچ صد روپیه بنام حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر شائع فرمایا جس میں حافظ محمد یوسف صاحب علاوہ ہندوستان کے بڑے بڑے علماء ومشائخ اور سجادہ نشینوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ۔اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامورمن اللہ ہونے کا دعوی کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے برابر تئیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے کہ مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیہ نقد دوں گا۔اور اگر ایسے لوگ کئی ہوں تو ان کو اختیار ہو گا کہ وہ روپیہ باہم تقسیم کر لیں۔اس اشتہار کے نکلنے کی تاریخ سے پندرہ روز تک ان کو مہلت ہے کہ دنیا میں تلاش کر کے ایسی نظیر پیش کریں۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۵۱) ( اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۴۰۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا چیلنج کے بعد بعض علماء نے اکبر بادشاہ اور روشن دین جالندھری کے نام پیش کئے کہ ان دونوں نے جھوٹے الہام کا دعوی کیا اور ہلاک نہ