حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 127 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 127

127 الشان معجزہ سے انکار نہ کریں۔“ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۹۳ تا ۳۳۱) پس حدیث میں یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ جب وہ سچا مہدی دعوی کر یگا تو اُس زمانہ میں قمر رمضان کے مہینہ میں اپنے خسوف کی پہلی رات میں منخف ہوگا اور ایسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہ آیا ہوگا اور کسی جھوٹے مہدی کے وقت رمضان کے مہینہ میں اور ان تاریخوں میں کبھی خسوف کسوف نہیں ہوا۔اور اگر ہوا ہے تو اس کو پیش کرو۔ورنہ جبکہ یہ صورت اپنی ہیئت مجموعی کے لحاظ سے خود خارق عادت ہے تو کیا حاجت کہ سنت اللہ کے برخلاف کوئی اور معنے کئے جائیں۔غرض تو ایک علامت کا بتلانا تھا سو وہ متحقق ہو گئی۔اگر متحقق نہیں تو اس واقعہ کی صفحہ تاریخ میں کوئی نظیر تو پیش کرو۔اور یاد رہے کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔‘“ ضمیمه نزول المسح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۱، ۱۴۲) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاں دار قطنی کی حدیث میں بیان کردہ کسوف و خسوف کی کسی مدعی کے زمانہ میں مثال لانے کے متعدد چیلنج دیئے وہاں یہ چیلنج بھی دیا کہ :۔اگر اس پیشگوئی کی عظمت کا انکار ہے تو دنیا کی تاریخ میں سے اس کی نظیر پیش کرو اور جب تک نظیر نہ مل سکے تب تک یہ پیشگوئی ان تمام پیشگوئیوں سے اول درجہ پر ہے جن کی نسبت آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَیبهِ أَحَدًا کا مضمون صادق آسکتا ہے کیونکہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ آدم سے آخیر تک اس کی نظیر نہیں۔اور اگر آپ لوگوں کے نزدیک ایسی پیشگوئی پر کوئی دوسرا بھی قادر ہوسکتا ہے تو پھر آپ اسکی نظیر پیش کریں جس سے ثابت ہو کہ کسی مفتری یا رسول کے سوا کسی اور نے کبھی یہ پیشگوئی کی ہو کہ ایک زمانہ آتا ہے جس میں فلاں مہینے میں چاند اور سورج کا خسوف کسوف ہوگا اور فلاں فلاں تاریخوں میں ہوگا اور یہ نشان کسی مامور من اللہ کی تصدیق کے لئے