حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 124
124 سوم۔اس مہینہ کی تیرھویں تاریخ کو چاند گرہن لگے گا۔چہارم۔اسی مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو سورج کو گرہن لگے گا۔پنجم۔مدعی مہدویت کا سورج اور چاند گرہن کے نشانات کو اپنے دعوی کی تائید میں پیش کرنا۔یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کا یکجائی وقوع پذیر ہونا سوائے اللہ تعالیٰ کے خاص تصرف کے ہرگز ممکن نہیں۔ان تمام شرائط کے ساتھ یہ نشان ایک عظیم الشان نشان قرار پاتا ہے۔چنانچہ عجیب بات ہے کہ ۱۸۹۴ء کے رمضان میں عین انہی شرائط کے ساتھ چاند اور سورج کو گرہن لگا۔یہ نشان نہ صرف ایک دفعہ بلکہ دو مرتبہ ظہور پذیر ہوا۔چنانچہ پہلی دفعہ ۱۸۹۴ء میں زمین کے مشرقی کره یعنی یوروپ وایشیا اور افریقہ میں وقوع پذیر ہوا اور دوسری مرتبہ ۱۸۹۵ء میں زمین کے مغربی کرہ یعنی امریکہ میں وقوع پذیر ہوا۔گویا اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں گرہن لگا کر اس بات کی گواہی دے دی کہ یہ امام ہماری طرف سے ہے۔دوسرے یہ ظاہر کر دیا کہ اس کی دعوت بھی اس نبی ممتبوع و مطاع یعنی آنحضرت ﷺ کی طرح سارے جہان کیلئے ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس نشان کو اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا اور بڑی تحدی کے ساتھ اس دعوی کو پیش کیا کہ ان تمام شرائط کے ساتھ یہ نشان اس سے پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوا اور آپ نے اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ اگر ایسا نشان پہلے کبھی گزرا ہے تو اس کی نظیر پیش کرو۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔” کیا تم ڈرتے نہیں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو جھٹلایا حالانکہ اس کا صدق چاشت کے آفتاب کی طرح ظاہر ہو گیا۔کیا تم اس کی نظیر پہلے زمانوں میں سے کسی زمانہ میں پیش کر سکتے ہو۔کیا تم کسی کتاب میں پڑھتے ہو کہ کسی شخص نے دعویٰ کیا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور پھر اس کے زمانہ میں رمضان میں