حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 78 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 78

78 حقیقت شناس اس عبارت سے اس کا جاہل ہونا اور کوچہ عربیت سے اس کا نابلد ہونا اور دعویٰ الہام میں کا ذب ہونا نکالتے ہیں۔اور خوب سمجھتے ہیں کہ یہ عبارت عرب کی عربی نہیں اور اس کی فقرہ بندی محض تک بندی ہے۔اس میں بہت سے محاورات اور الفاظ کا دیانی نے از خود گھڑ لئے ہیں۔عرب عرباء سے وہ منقول نہیں اور جو اس کے عربی الفاظ و فقرات ہیں ان میں اکثر کی صرف و نحو وادب کے اصول وقواعد کی رو سے اس قدر غلطیاں ہیں کہ ان اغلاط کی نظر سے ان کو مسخ شدہ عربی کہنا بے جانہیں۔اور ان کے راقم کو عربی سے جاہل اور الہام وکلام الہی سے مشرف و مخاطب ہونے سے عاطل کہنا زیبا ہے۔“ پھر مخالفین نے آپ پر یہ اعتراض بھی کیا کہ جو کتا ہیں عربی زبان میں آپ تصنیف فرماتے ہیں وہ دوسروں سے لکھواتے ہیں۔اور ایک شامی عرب اپنے پاس رکھا ہے جو آپ کو لکھ کر دیتا ہے اور آپ اپنے نام پر شائع کر دیتے ہیں۔اور یہ اعتراض جس بیہودہ رنگ میں انہوں نے کیا یقیناً مخالفین اسلام نے آنحضرت ﷺ پر اس رنگ میں نہیں کیا ہوگا۔جھوٹ بولنا آسان ہوتا ہے لیکن اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے کئی اور جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔(اشاعۃ السنہ۔جلد ۵ صفحه ۳۱۶) میں اس جگہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے اصل الفاظ نقل کر دیتا ہوں تا آئندہ آنے والے لوگ آپ کے مخالفین کی ان مذموم حرکات اور ان افتراؤں کا اندازہ لگاسکیں جو وہ مقابلہ سے بچنے اور عوام الناس کو آپ سے دور رکھنے کیلئے تراشا کرتے تھے۔نیز ان کے پاس اس اعتراض کا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی متعدد کتب میں کیا ہے ایک ثبوت ہو جائے۔شیخ بٹالوی صاحب لکھتے ہیں۔امرتسر کے گلی کوچوں میں یہ خبر مشہور تھی کہ اس قصیدہ ہمزیہ کے صلہ میں کادیانی نے شامی صاحب کو دوسوروپے دیئے ہیں۔میں نے شامی صاحب سے اس خبر کی حقیقت