حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 77
77 جب یہ کتاب شائع ہوئی اور اس کا ایک نسخہ شیخ رشید رضا صاحب کو بھی ہدیۂ بجھوایا گیا تو انہوں نے الھدی سے قبر مسیح کے متعلق مضمون کا بہت سا حصہ نقل کر کے جو مسیح کی کشمیر کی طرف ہجرت سے متعلق تھا اپنے رسالہ المنار میں نقل کر کے لکھا کہ ایسا ہونا عقلا ونقلا مستبعد نہیں۔لیکن انہیں یہ توفیق نہ مل سکی کہ اس کے جواب میں ایسی فصیح و بلیغ کتاب لکھ کر آپ کی پیشگوئی کو باطل ثابت کرتے۔اس طرح اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کمال آب و تاب سے پوری ہوئی۔عربی نویسی کے مقابلوں کے چیلنجوں کا ردعمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فصیح و بلیغ عربی میں کتا میں لکھنا چونکہ تائید الہی سے تھا۔آپ کے اکتسابی علم کا نتیجہ نہ تھا اس لئے مخالف علماء نے آپ کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی بجائے ویسے ہی اعتراضات کئے جیسے کہ آنحضرت میہ کے مخالفین نے قرآنی چیلنج کے جواب میں کئے تھے کہ ایسا فصیح و بلیغ اور پر از معارف اور حقائق و دقائق کلام آنحضرت جیسے امی شخص کا کام نہیں ہوسکتا۔اس لئے ایک طرف تو انہوں نے کہا إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ “ کہ اسے کوئی اور بشر سکھاتا ہے۔’و اعانه علیه قوم آخرون ، یعنی دوسرے اور لوگ ہیں جو قرآن کی تالیف میں آپ کی اعانت کر رہے ہیں۔اور دوسری طرف کہا کہ ”لو نشاء لـقـلـنـا مثـل هـذا ان هذا الا اساطیر الاولین “ یعنی اگر ہم چاہیں تو ہم ایسا کلام کہہ سکتے ہیں لیکن ہم اس لئے اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ اس میں پہلوں کے قصوں اور سٹوریوں کے سوا رکھا ہی کیا ہے اور بعد میں آنے والے مخالف عیسائیوں نے یہ بھی لکھنا شروع کر دیا کہ قرآن کریم تو فصیح و بلیغ بھی نہیں اور اس میں نحوی اور صرفی بہت سی غلطیاں پائی جاتی ہیں۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالف علماء کو جو آپ کو جاہل اور خود کو عالم خیال کرتے تھے مقابلہ کے لئے دعوت دی اور چیلنج پر چیلنج کیا تو ان کا جواب بھی وہی تھا جو مخالفین قرآن نے دیا تھا۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی حضرت اقدس کے عربی کلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔