حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 72
72 اور دوسرے ان کے رفقاء اس مقابلہ کیلئے مدعو ہیں اور درخواست مقابلہ کیلئے ہم نے ان سب کو اخیر جون ۱۸۹۴ء تک مہلت دی ہے اور سالہ بالمقابل شائع کرنے کیلئے روز درخواست سے تین مہینہ کی مہلت ہے ( اتمام الحجہ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۰۴) سر الخلافہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۴ء میں تصنیف فرمائی۔اس کتاب میں آپ نے مسئلہ خلافت پر جو اہل سنت اور شیعوں میں صدیوں سے زیر بحث چلا آیا ہے سیر کن بحث کی ہے اور دلائل قطعیہ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی چاروں خلیفہ برحق تھے تاہم حضرت ابوبکر سب صحابہ سے اعلیٰ شان رکھتے تھے اور اسلام کیلئے آدم ثانی تھے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر شیعہ صاحبان کی طرف سے غصب وغیرہ کے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے مدلل اور مسکت جواب بھی دیئے ہیں۔نیز ان کے اور باقی صحابہ کے فضائل کا بھی ذکر فرمایا ہے۔اور شیعوں کی غلطی کو الم نشرح کیا ہے۔نیز آپ نے کتاب میں عقیدہ ظہور مہدی کا ذکر کر کے اپنے دعوی مهدویت پر شرح وبسط سے بحث کی ہے۔اس کتاب کے عربی زبان میں لکھنے کا مقصد حضور نے یہ تحریر فرمایا ہے۔یہ کتاب مولوی محمد حسین بٹالوی اور دوسرے علماء مکفرین کے الزام اور اور ان کی مولویت کی حقیقت کھولنے کے لئے بوعدہ انعام ستائیس روپیہ شائع ہورہی ہے۔“ ٹائیٹل پیچ سر الخلافہ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۱۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب کے شروع میں ہی اپنی کتب سے غلطیاں نکالنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک اشتہار دیتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ۔چاہئے کہ اول مثلا اس رسالہ کے مقابل پر رسالہ لکھیں اور پھر اگر ان کا رسالہ وو