حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 48
48 استعمال ہوا ہے۔اس سے مولوی صاحب کے نزدیک توفی کا چیلنج ٹوٹ جاتا ہے۔جواب مولوی صاحب نے اس حدیث کے جو معنی بیان کئے ہیں وہ درست نہیں۔اگر بفرض محال یه معنی درست تسلیم کر بھی لئے جائیں تو یہ حدیث پھر بھی حضرت اقدس کے مطالبہ کو پوری نہیں کرتی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالبہ یہ ہے کہ توفی کا لفظ قرآن وحدیث یا اقوال عرب سے روح کو جسم سمیت قبض کرنے کے معنوں میں دکھایا جائے۔اس صورت میں کہ جب اللہ فاعل ہو، کوئی ذی روح مفعول بہ ہو، باب تفعل ہو اور لیل یا نیند کا کوئی قرینہ نہ ہو۔مگر اس حدیث میں مولوی صاحب نے ان شرائط کی موجودگی میں توفی کے لفظ کا استعمال روح مع الجسم قبض کرنے کے معنوں میں پیش نہیں کیا جو اصل مطالبہ ہے۔پس اس حدیث سے مولوی صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیلنج کو توڑنے کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہوسکتا۔۲۔عربی لغت کے لحاظ سے مولوی صاحب کے بیان کردہ معنی درست نہیں ہو سکتے کیونکہ عربی لغت کے اعتبار سے توفی کے بنیادی معنی اخذ الشیء وافیا کسی شے کا پورا پورا لینا ہوتا ہے اور اس کے معنی اعطاء الشی ، وافیا یعنی کسی شے کا پورا پورا دینا از روئے لغت درست نہیں۔جیسے کہ مولوی صاحب نے اس حدیث کے معنی پورا پورا اجر و ثواب دیئے جانا بیان کئے ہیں۔پس توفی کے معنی دینا از روئے لغت درست ہو ہی نہیں سکتے تو آنحضرت علہ جو افضح العرب تھے تو فی کا لفظ پورا پورا ثواب دینے کے معنوں میں کہاں استعمال فرما سکتے تھے؟ خود مولوی عنایت اللہ صاحب گجراتی نے بھی اپنی کتاب ”کیل الموفی“ میں لغت کے حوالے سے توفی کے جو معنی پیش کئے ہیں ان میں بھی اس کے معنی پورا دینے کی بجائے پورا لینا ہی لکھے ہیں۔پس جب تو فی کا لفظ عربی لغت میں پورا دینے کے معنوں میں استعمال ہو ہی نہیں سکتا تو اس حدیث میں توفی کا مفعول ثانی اجرہ یا ثوابہ محذوف قرار ہی نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ ایسا