حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 47 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 47

47 الجسم کے معنوں پر مشتمل نہیں بلکہ وفات کے معنوں میں احتمال رکھتی ہے۔مگر حدیث کی اس مثال کو جسے انہوں نے چھپائے رکھا تھا تا کہ ان کے ڈھونگ پر پردہ پڑا رہے بعد میں اپنی کتاب کیل الموفی میں شائع کر دی تھی۔ذیل میں مولوی عنایت اللہ گجراتی کی پیش کردہ حدیث کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔مولوی عنایت اللہ گجراتی کی پیش کردہ حدیث مولوی عنایت اللہ گجراتی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیلنج کے خلاف اپنی کتاب کیل الموفی میں ثبوت نمبر ۲۳ میں لکھا ہے۔بزاز ، طبرانی ابن حبان میں بروایت عبداللہ بن عمرؓ ایک سائل کے جواب میں ارشاد نبوی ہے۔وَإِذَا رَمَى الْجِمَارَ لَا يَدْرِى اَحَدٌ مَالَهُ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔الحديث بطوله۔“ ترجمہ۔جب حاجی جمروں کو کنکریاں مارتا ہے تو اسے اس کا اجر وثواب معلوم نہیں ہوسکتا۔ہاں جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کار خیر کا اجر وثواب عطا فرمائے گا۔یہ کہ اسے ایسی جگہ بہترین جگہ اور نعمتوں میں لا بسائے گا جن کا اسے وہم و خیال تک بھی نہیں تھا۔تب اسے معلوم ہو گا کہ اس کا یہ اجر وثواب ہے۔اس حدیث میں بھی شرائط ثلاثہ موجود ہونے پر موت کا ترجمہ ہرگز درست نہیں کیونکہ یہ تو فی قیامت کو ہوگی۔(کیل الموفی صفحہ ۵۷) مولوی صاحب نے اس حدیث کا تشریحی ترجمہ کرنے کے بعد جو نتیجہ نکالا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث میں بیان کردہ تو فی قیامت کو ہو گی۔اس لئے اس کا ترجمہ موت درست نہیں ہوسکتا۔بلکہ یہاں اجر و ثواب کا پورا پورا لینا مراد ہے۔پس مولوی صاحب کے نزدیک اس حدیث میں توفی کا لفظ تینوں شرائط کے باوجود موت کے علاوہ پورا پورا دینا“ کے مفہوم میں