حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 36 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 36

36 آسمان پر جانا بھی ایک قسم کا گزر جانا ہے۔جو لفظ خلت کے مفہوم میں داخل ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے اس مزعومہ خیال اور عذر کے پیش نظر یہ چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔میں آپ کو ہزار روپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں۔اگر آپ کسی قرآن شریف کی آیت یا کسی حدیث قوی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول صحابہ یا کسی دوسرے امام کے قول سے یا جاہلیت کے خطبات یا دواوین اور ہر ایک قسم کے اشعار یا اسلامی فصحاء کے کسی نظم یا نثر سے یہ ثابت کر سکیں کہ خلت کے معنوں میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص مع جسم عصری آسمان پر چلا جائے۔خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں اوّل خَلَتْ کا بیان کرنا اور پھر ایسی عبارت میں جو بموجب اصول بلاغت و معانی تفسیر کے محل میں ہے صرف مرنا یا قتل کئے جانا بیان فرمانا۔کیا مومن کے لئے یہ اس بات پر حجت قاطع نہیں ہے کہ خَلَتْ کے معنے اس محل میں دو ہی ہیں یعنی مرنا یا قتل کئے جانا۔اب خدا کی گواہی کے بعد اور کس کی گواہی کی ضرورت ہے۔الحمد للہ ثم الحمدللہ کہ ایسے مقام میں خدا تعالٰی نے میری سچائی کی گواہی دیدی اور بیان فرما دیا کہ خَلَتْ کے معنے مرنا یا قتل کئے جانا ہے۔“ ( تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۷۶) مُردوں کے دوبارہ دنیا میں واپس آنے کی راہ میں مانع آیات کو غیر قطعية الدلالت ثابت کرنے پر ہزار روپیہ کا چیلنج حیات مسیح کے بعض قائلین کا یہ عقیدہ ہے کہ بے شک حضرت عیسی ایک دفعہ وفات پاگئے ہیں مگر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے تھے اور آخری زمانہ میں دوبارہ دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔اس موقف کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے درج ذیل چیلنج دیا۔اگر کوئی یہ ثابت کر کے دکھاوے کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں اور احادیث جو یہ ظاہر