حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 414 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 414

414 لئے میری دعائیں قبول ہوسکتی ہیں دوسروں کی ہرگز نہیں ہوسکتیں۔اور جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہر گز نہیں لکھ سکتا۔اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی۔اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلہ بھاری ہوگا۔دیکھو میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اس وقت اے مسلمانوں! تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسر اور محدث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدعی ہیں اور بلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں۔اٹھو اور اس وقت ان کو میرے مقابلہ پر لاؤ۔“ ( ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۰۷) فرمایا۔”میں تو اب بھی ماننے کو طیار ہوں اگر آیت فَلَمَّا تَوَفِّيتَنِی کے معنے بجز مارنے اور ہلاک کرنے کے کسی حدیث سے کچھ اور ثابت کر سکو یا کسی آیت یا حدیث سے حضرت عیسی علیہ السلام کا مع جسم عنصری آسمان پر چڑھنا یا مع جسم عصری آسمان سے اترنا ثابت کر سکو۔یا اگر اخبار غیبیہ میں جو خدا تعالیٰ سے مجھ پر ظاہر ہوتی ہیں میرا مقابلہ کر سکو یا استجابت دعا میں میرا مقابلہ کر سکو یا تحریر زبان عربی میں میرا مقابلہ کر سکو یا اور آسمانی نشانوں میں جو مجھے عطا ہوئے ہیں میرا مقابلہ کر سکوتو میں جھوٹا ہوں۔“ فرمایا۔تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۴۳) اگر آسمانی نشانوں میں کوئی میرا مقابلہ کر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر دعاؤں کے قبول