حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 391 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 391

391 مولوی بٹالوی کے عدالت میں کرسی طلب کرنے کی حقیقت ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف سازش کرتے ہوئے آپ کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ اقدام قتل ڈپٹی کمشنر ایم ڈبلیو ڈگلس کی عدالت میں دائر کیا۔اس مقدمہ کی سماعت پر مولوی محمد حسین بٹالوی ڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوا۔اور عدالت میں بیٹھنے کے لئے کرسی کے حصول کا استحقاق جتلایا۔جس پر ڈپٹی کمشنر نے مولوی صاحب کے استحقاق کو تسلیم نہ کیا مگر مولوی صاحب نے اصرار کیا کہ ان کو کرسی کا استحقاق حاصل ہے۔اس پر ڈپٹی کمشنر نے مولوی صاحب کو سخت جھڑ کیاں دیں اور مولوی صاحب کی سخت تو ہین ہوئی۔اس واقعہ کے بے شمار عینی شاہدوں کے باوجود مولوی صاحب نے اس واقعہ کی تردید کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ مولوی صاحب کو پوری عزت و احترام کے ساتھ عدالت میں کرسی دی گئی تھی۔مولوی صاحب کے اس جھوٹ اور دھوکہ دہی کی حقیقت کو آشکار کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاحب کو اپنا بیان سچا ثابت کرنے کیلئے درج ذیل چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اگر در حقیقت اس شیخ بٹالوی کو کرسی ملی تھی اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے بڑے اکرام اور اعزاز سے اپنے پاس ان کو کرسی پر بٹھا لیا تھا تو پتہ دینا چاہئے کہ وہ کرسی کہاں بچھائی گئی تھی۔شیخ مذکور کو معلوم ہوگا کہ میری کرسی صاحب ڈپٹی کمشنر کے بائیں طرف تھی اور دائیں طرف صاحب ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ کی کرسی تھی اور اسی طرف ایک کرسی پر ڈاکٹر کلارک تھا۔اب دکھلا نا چاہئے کہ کونسی جگہ تھی جس میں شیخ محمد حسین بٹالوی کے لئے کرسی بچھائی گئی تھی۔سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔اس شخص نے میری ذلت چاہی تھی اور اسی جوش میں پادریوں کا ساتھ دیا۔خدا نے اس کو عین عدالت میں ذلیل کیا۔یہ حق کی مخالفت کا نتیجہ ہے اور یہ راستباز کی عداوت کا ثمرہ ہے۔اگر اس بیان میں نعوذ باللہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو طریق فیصلہ دو۔