حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 20
20 عامہ خلائق کو فتنہ میں پڑنے سے بچانے کیلئے اس مسئلہ میں اسی شہر دہلی میں میرے ساتھ بحث کر لیں۔بحث میں صرف تین شرطیں ہوں گی۔اول یہ کہ امن قائم رہنے کے لئے وہ خود سرکاری انتظام کروا دیں۔یعنی ایک افسر انگریز مجلس بحث میں موجود ہوں۔کیونکہ میں مسافر ہوں اور اپنی عزیز قوم کا مورد عتاب اور ہر طرف سے اپنے بھائیوں مسلمانوں کی زبان سے سب اور لعن طعن اپنی نسبت سنتا ہوں۔اور جو شخص مجھ پر لعنت بھیجتا ہے اور مجھے دجال کہتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ آج میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے۔لہذا میں بجز سرکاری افسر کے درمیان میں ہونے کے اپنے بھائیوں کی اخلاقی حالت پر مطمئن نہیں ہوں کیونکہ کئی مرتبہ تجربہ کر چکا ہوں۔ولا يلدغ المومن من جحر واحد مرتين۔دوسرے یہ کہ فریقین کی بحث تحریری ہو۔ہر ایک فریق مجلس بحث میں اپنے ہاتھ سے سوال لکھ کر اور اس پر اپنے دستخط کر کے پیش کرے اور ایسا ہی فریق ثانی لکھ کر جواب دیوے کیونکہ زبانی بیانات محفوظ نہیں رہ سکتے اور نقل مجلس کرنے والے اپنے اعتراض کی حمایت میں اس قدر حاشیے چڑھا دیتے ہیں کہ تحریف کلام میں یہودیوں کے بھی کان کاٹتے ہیں۔اس صورت میں تمام بحث ضائع ہو جاتی ہے اور جو لوگ مجلس بحث میں حاضر نہیں ہو سکتے ان کو رائے لگانے کیلئے کوئی صحیح بات ہاتھ نہیں آتی۔ماسوا اس کے صرف زبانی بیان میں اکثر مخاصم بے اصل اور کچھی باتیں منہ پر لاتے ہیں۔لیکن تحریر کے وقت وہ ایسی باتوں کے لکھنے سے ڈرتے ہیں تا وہ اپنی خلاف واقعہ تحریر سے پکڑے نہ جائیں اور ان کی علمیت پر کوئی دھبہ نہ لگے۔تیسری شرط یہ کہ بحث وفات حیات مسیح میں ہو۔اور کوئی شخص قرآن کریم اور کتب حدیث سے باہر نہ جائے۔مگر صحیحین کو تمام کتب حدیث میں مقدم رکھا جائے اور بخاری کو مسلم پر کیونکہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ