حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 369 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 369

369 جواب یہ احا در وایت قابل صحت نہیں کیونکہ یہ واقعات کے صریح خلاف ہے۔واضح ہو کہ آپ کی وفات آپ کے معالج ڈاکٹر سدر لینڈ پرنسپل میڈیکل کالج لاہور نے اپنے سرٹیفیکیٹ میں لکھا کہ آپ کی وفات اعصابی اسہال کی بیماری سے ہوئی ہے جو اطباء آپ کے معالج تھے وہ سب ڈاکٹر سدر لینڈ کی رائے سے متفق تھے۔لہذا روایت میں یہ غلطی ہوئی ہے کہ میر ناصر نواب صاحب نے وبائی ہیضہ کے متعلق حضرت اقدس کے استفہامیہ جملے کو جملہ خبر یہ سمجھ لیا ہوگا اور آپ یہ فقرہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ لاہور میں ان دنوں وبائی ہیضہ نہ تھا۔لہذا یہ جملہ بطور نمونہ جملہ خبریہ سیج نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق نہیں۔پس آپ کی بیماری کی صحیح تشخیص وہی ہے جو ڈاکٹروں نے کی اور وہ پرانی اعصابی تکلیف کا دورہ تھا جس کے نتیجہ میں اسہال سے آپ کی وفات ہوئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔شاء اللہ امرتسری کی بے نیل و مرام موت بلا شبہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد چالیس برس کی لمبی مہلت پائی کیونکہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ مولوی صاحب کو شجر احمدیت کی کامیابی دکھائے تا اس کی موت حسرت کی موت ہو جو دلائل کی موت کے بعد بہت بڑا عذاب ہے۔سو اس نے کافی مہلت دے کر یہ سارا نقشہ دکھا دیا۔اس عرصہ میں مولوی صاحب نے اپنا پور از ور سلسلہ احمدیہ کو نابود کرنے میں صرف کر دیا مگر دنیا جانتی ہے کہ مولوی صاحب اس مقصد میں بالکل ناکام ہوئے۔اس حقیقت کا اعتراف حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے شدید معاند بھی کئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ فیصل آباد میں مولوی عبدالرحیم صاحب اشرف مدیر رساله المنبر نے سلسلہ احمدیہ کے شدید معاند ہونے کے باوجود ۱۹۵۶ء میں کھلے بندوں اعتراف کرتے