حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 368 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 368

368 آخری فیصلہ کے متعلق جو کچھ حضرت مسیح موعود نے لکھا تھا وہ دعائے مباہلہ تھی۔پس چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے مقابل پر دعا نہیں کی بلکہ اس کے مطابق فیصلہ چاہنے سے انکار کر دیا وہ مباہلہ کی صورت میں تبدیل نہیں ہوئی۔اور مولوی صاحب عذاب سے ایک مدت کے لئے بچ گئے۔میری اس تحریر کے شاہد میری کتاب ”صادقوں کی روشنی کے یہ فقرات ہیں۔مگر جبکہ اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح بدل گیا تو اس نے منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دہرانا شروع کر دیا۔نیز اگر وہ ایسا کرتا تو خدا وند تعالیٰ اپنی قدرت دکھاتا اور ثناء اللہ اپنی گندا دہانیوں کا مزا چکھ لیتا۔غرض میرا یہ ہمیشہ سے یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا دعائے مباہلہ تھی لیکن بوجہ اس کے کہ مولوی صاحب نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا وہ دعا مبلہ نہیں تھی اور اللہ تعالی نے اس عذاب کے طریق کو بدل دیا۔خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی ۱۶/۳/۳۱ پس حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی مندرجہ بالا تحریر سے صاف کھل گیا کہ آپ بھی ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء والے اشتہار کو دعائے مباہلہ ہی سمجھتے تھے۔اعتراض ”مرزا صاحب نے آخری فیصلہ میں کاذب کی موت صادق کے سامنے واقع ہونا لکھی تھی اور ہیضہ طاعون وغیرہ مہلک امراض سے لکھی تھی۔واضح رہے کہ مرزا صاحب کے خسر نواب میر ناصر کا بیان ہے کہ وفات سے ایک روز قبل میں مرزا صاحب سے ملنے گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ” میر صاحب مجھ کو وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔( حیات نواب میر ناصر صفحہ ۱۴) محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۶۶۸، ۶۶۹ مطبوعہ ۱۹۱۷ء بار پنجم )