حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 367
367 اعتراض مرزا محمود احمد صاحب پسر مرزا غلام احمد قادیان صاحب نے بھی آخری فیصلہ والے اشتہار کو یکطرفہ دعا بلکہ پیشگوئی قرار دیا ہے۔جیسا کہ وہ لکھتے ہیں۔ایک اعتراض کیا جاتا ہے اس کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔وہ یہ کہ حضرت اقدس کا الہام مولوی ثناء اللہ کے متعلق یہ تھا کہ تیری دعا سنی گئی تو پھر آپ پہلے کیوں فوت ہوئے۔سو اس کا جواب میں اوپر دے آیا ہوں کہ وعید کی پیشگوئیاں مل جاتی ہیں۔تو صرف اس وجہ سے کہ اصلاح کی صورت کچھ اور پیدا ہو جاتی ہے۔“ (رسالة تشحمید الاذہان بابت جون جولائی ۱۹۰۸ء) اس عبارت سے بھی عیاں ہے کہ آخری فیصلہ دعا تھی جو مقبول ہوگئی۔لہذا بوجہ قبولیت کے پیشگوئی بن گئی مباہلہ نہیں تھا۔“ محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۶۶۲ مطبوعہ ۱۹۱۷ء بار پنجم ) جواب اس اعتراض کے جواب میں ذیل میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ایک تحریری بیان کی نقل پیش کرتے ہیں جو حضور نے ۱۶ مارچ ۱۹۳۱ء کو تحریر فرما کر حافظ محمد حسن صاحب نائب ناظم انجمن اہلحدیث لاہور کے مطالبہ پر انہیں ارسال فرمایا اور وہ یہ ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ پر اس اعلان کے مطابق آتے جو آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خلاف ۱۹۰۷ء میں کیا تھا تو وہ ضرور ہلاک ہوتے۔اور مجھے یہ یقین ہے ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو میں نے مضمون لکھا تھا اس میں بھی لکھ چکا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ