حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 361 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 361

361 پس مولوی صاحب کی مندرجہ بالا تمام تحریرات سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مولوی صاحب نے اس چیلنج کو قبول کرنے سے واضح انکار کر دیا اور پہلے کی طرح مقابل پر آنے کی راہ فرار اختیار کی۔لہذا اب یہ چیلنج فیصلہ کن نہ رہا اور فیصلہ کے اعتبار سے اس کی کچھ حیثیت باقی نہ رہی۔اگر مولوی صاحب جرات کر کے مباہلہ کر لیتے تو یقیناً وہ حضرت اقدس سے پہلے مرتے مگر چونکہ انہوں نے نجران کے عیسائیوں کی طرح مباہلہ سے گریز کیا اس لئے وہ حضور کی زندگی میں مرنے سے بچ گئے۔اور اپنے تسلیم کردہ اصول کی رو سے ”جھوٹے ، دغاباز ،مفسد اور نافرمان لوگوں کی طرح لمبی عمر دئیے گئے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں۔حضرت اقدس کا وصال اور علماء کا پروپیگنڈا عجیب بات ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں تو یہ طریق فیصلہ کن نہ تھا لیکن جب حضرت اقدس کی وفات آپ کے اپنے الہامات کے مطابق ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو وقوع میں آگئی تو اب مولوی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب کا پہلے فوت ہوجانا ان کے کذب کی دلیل ہے۔اور اب مولوی صاحب کے نزدیک ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء والا خط فیصلہ کن بن گیا۔حالانکہ وہ پہلے لکھ چکے تھے کہ اسے کوئی دانا منظور نہیں کرسکتا۔“ اب یہ فیصلہ کرنا سلیم الفطرت اصحاب پر منحصر ہے کہ مولوی صاحب کی پہلی تحریریں دانائی پر مشتمل تھیں یا بعد کی تحریریں دانائی پر مشتمل ہیں۔چونکہ مولوی صاحب نے دعائے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اس لئے اب اس خط کو فیصلہ کن قرار دینا درست نہیں۔کیونکہ اگر اس کے مطابق فیصلہ ہو جاتا اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی وفات پہلے ہو جاتی تو ان کے ہوا خواہ فوراً یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے مولوی صاحب نے تو اس طریق فیصلہ کو مانا ہی نہیں۔لہذا یہ کیسے حجت ہوسکتا ہے؟