حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 353 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 353

353 کبھی اس سے علیحد گی نہیں کی اور وہ چال لی تھی کہ دل سے تو ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ حضرت اقدس کے ساتھ مباہلہ کی نوبت آئے مگر لوگوں پر ظاہر یہی کرنا چاہتے تھے کہ میں مباہلہ کے لئے بالکل تیار ہوں۔کبھی تو اپنے ہمخیالوں کی اس پرسش پر کہ آپ مباہلہ کیوں نہیں کرتے آپ کو ضرور مباہلہ کرنا چاہئے وہ مباہلہ پر آمادگی ظاہر کر دیا کرتے تھے اور کبھی کبھی خود بھی ترنگ میں آکر مباہلہ مباہلہ کا شور مچادیتے تھے۔لیکن جب حضرت اقدس کی طرف سے جواب دیا جاتا تو ہمیشہ مختلف حیلوں بہانوں سے فرار اختیار کر جاتے۔مگر ایک دفعہ دوستوں کے اصرار پر ایک دوست کو مباہلہ پر آمادگی سے متعلق ایک تحریر بھی لکھ کر بھیج دی۔وہ تحریر جب حضرت اقدس تک پہنچی تو حضور نے اپنی زیر تالیف کتاب اعجاز احمدی‘ میں فرمایا۔میں نے سُنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کیلئے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی مر جائے اور نیز یہ بھی خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اعجاز امسیح کی مانند کتاب تیار کرے جو ایسی ہی فصیح بلیغ ہو اور انہیں مقاصد پر مشتمل ہو۔سواگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ خواہشیں دل سے ظاہر کی ہیں نفاق کے طور پر نہیں تو اس سے بہتر کیا ہے اور وہ اس اُمت پر اس تفرقہ کے زمانہ میں بہت ہی احسان کرینگے کہ وہ مردِ میدان بن کر ان دونوں ذریعوں سے حق و باطل کا فیصلہ کر لیں گے۔یہ تو انہوں نے اچھی تجویز نکالی اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے۔“ آگے چل کر حضور لکھتے ہیں اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۲،۱۲۱) اگر اس چیلنج پر وہ ( مولوی ثناء اللہ صاحب ) مستعد ہوئے کہ کا ذب صادق کے پہلے