حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 352
352 کر کے خدا تعالیٰ سے ظالم کی بیخ کنی ہونی چاہی تھی سو اس کے چند روز ہی کے بعد اس کی بیخ کنی ہو گئی اور اسی صفحہ ہے میں مولوی اصغر علی نام درج ہے وہ بھی اس وقت تک بد گوئی سے باز نہ آیا جب تک خدا تعالیٰ کے قہر سے ایک آنکھ اُس کی نکل گئی۔ایسا ہی اس مباہلہ کی فہرست میں مولوی عبدالمجید دہلوی کا ذکر ہے جو فروری ۱۹۰۷ء میں بمقام دہلی ہیضہ سے گزر گیا۔ایسا ہی اور بہت سے لوگ تھے جو علماء یا سجادہ نشین کہلاتے تھے اور بعد اس دعوت مباہلہ کے بدگوئی اور بد زبانی سے باز نہیں آئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے بعض کو تو موت کا پیالہ پلا دیا اور بعض طرح طرح کی ذلتوں میں گرفتار ہو گئے اور بعض اس قدر دُنیا کے مکر اور فریب اور دُنیا طلبی کے گندے شغل میں گرفتار ہوئے کہ حلاوت ایمان اُن سے چھین لی گئی۔ایک بھی اس بد دعا کے اثر سے محفوظ نہیں تتمہ حقیقۃ الوحی جلد ۲۲ صفحه ۴ ۴۵ تا ۴۵۵) رہا۔66 مولوی ثناء اللہ امرتسری کو مباہلہ کا چیلنج اس سے پہلے انجام آتھم میں مندرج وہ دعوت مباہلہ درج کی جا چکی ہے جو حضرت اقدس نے علماء اور سجادہ نشینوں کو دی تھی اس چیلنج میں ہندوستان کے علماء میں سے ۵۸ مشہور علماء اور صوفیاء میں سے ۴۹ معروف صوفیاء کے نام درج کر کے انہیں مباہلہ کیلئے بلایا تھا اور علماء کے ناموں میں سے مولوی ثناء اللہ امرتسری کا نام بھی گیارہویں نمبر پر تھا۔اور جس طرح تمام علماء کو مباہلہ کے لئے میدان میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی اسی طرح مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی۔مگر اس معاملہ میں اور تمام علماء سے مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ امتیاز خاص طور حاصل ہے کہ وہ بعض علماء کی طرح دو ایک بار مباہلہ کرنے سے متعلق رکیک اور کمزور عذرات پیش کر کے خاموش نہیں ہوئے بلکہ جو دورنگی چال انہوں نے اختیار کی تھی اس پر چلتے رہے اور