حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 343
343 عاجز کو کا فر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی۔اور بعض کا فر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں۔مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔بہر حال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کیلئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر یا مکذب ہیں اور درحقیقت ہر ایک شخص جو باخدا اور صوفی کہلاتا ہے اور اس عاجز کی طرف رجوع کرنے سے کراہت رکھتا ہے وہ مکذبین میں داخل ہے۔کیونکہ اگر مکذب نہ ہوتا تو ایسے شخص کے ظہور کے وقت جس کی نسبت آنحضرت ﷺ نے تاکید فرمائی تھی۔کہ اس کی مدد کرو اور اس کو میرا اسلام پہنچاؤ اور اس کے مخلصین میں داخل ہو جاؤ تو ضرور اس کی جماعت میں داخل ہو جاتا۔اور صاف باطن فقراء کیلئے یہ موقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اور ہر یک کدورت سے الگ ہوکر اور کمال تضرع اور ابتہال سے اس پاک جناب میں توجہ کر کے راز سر بستہ کا اسی کے کشف اور الہام سے انکشاف چاہیں۔اور جب خدا کے فضل سے انہیں معلوم کرایا جائے تو پھر جیسا کہ ان کی اتقاء کی شان کے لائق ہے محبت اور اخلاص اور کامل رجوع سے ثواب آخرت حاصل کریں اور سچائی کی گواہی کیلئے کھڑے ہو جائیں۔مولویان خشک بہت سے حجابوں میں ہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی سماوی روشنی نہیں۔لیکن جو لوگ حضرت احدیت سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں اور تزکیہ نفس سے انانیت کی تاریکیوں سے الگ ہو گئے ہیں۔وہ خدا کے فضل سے قریب ہیں۔اگر چہ بہت تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں۔مگر یہ امت مرحومہ ان سے خالی نہیں۔وہ لوگ جو مباہلہ کیلئے مخاطب کئے گئے ہیں یہ ہیں:۔مولوی نذیر حسین دہلوی شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعتہ السنہ مولوی عبدالحمید دہلوی مہتمم مطبع انصاری مولوی رشید احمد گنگوہی مولوی عبدالحق دہلوی