حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 338
338 روش پر اظہار افسوس کیا کہ وہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی پروا نہ کر کے کھلم کھلا اس مسئلہ میں پادریوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔اس کے بعد آپ نے تمام مخالف علماء وسجادہ نشینوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ چیلنج دیا کہ:۔سواب اٹھو اور مباہلہ کیلئے تیار ہو جاؤ۔تم سن چکے ہو کہ میرا دعوئی دو باتوں پر مبنی تھا۔اول نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر۔دوسرے الہامات الہیہ پر۔سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا توڑ کر پھینک دے۔اب میرے بناء دعویٰ کا دوسراشق باقی رہا۔سو میں اس ذات قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار رد نہیں کر سکتا کہ اب اس دوسری بنا ء کی تصفیہ کیلئے مجھ سے مباہلہ کر لو۔اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جولکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گا۔اور دعا کروں گا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میرا ہی افتراء ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنالیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزر نے سے پہلے مجھے وفات دے۔یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدتر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر۔جب تک کہ موت آجائے۔تا میری ذلت ظاہر ہو اور لوگ فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں۔اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے۔لیکن اے خدائے علیم وخبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں۔اور تیرے منہ کی باتیں ہیں۔تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں۔ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے۔اور کسی کو مجذوم اور