حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 337 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 337

337 پہنچ کر اور بعض نے بذریعہ خط تو بہ کا اقرار کیا۔پس میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قدر بنی آدم کی توبہ کا ذریعہ جو مجھے کوٹھہرایا گیا یہ اس قبولیت کا نشان ہے جو خدا کی رضا مندی کے بعد حاصل ہوتی ہے دسواں امر جو عبدالحق کے مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا جلسہ مذاہب لاہور ہے اس جلسہ کے بارے میں مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔جس رنگ اور نورانیت کی قبولیت میرے مضمون کے پڑھنے میں پیدا ہوئی۔اور جس طرح دلی جوش سے لوگوں نے مجھے اور میرے مضمون کو عزت کی نگاہ سے دیکھا۔کچھ ضرورت نہیں کہ میں اس کی تفصیل کروں۔بہت سی گواہیاں اس بات پرسن چکے ہو کہ اس مضمون کا جلسہ مذاہب پر ایسا فوق العادت اثر ہوا تھا۔کہ گویا ملائک آسمان سے نور کے طبق لے کر حاضر ہو گئے تھے۔ہر ایک دل اس کی طرف ایسا کھینچا گیا تھا۔کہ گویا ایک دست غیب اس کو کشاں کشاں عالم وجد کی طرف لے جا رہا ہے۔جب لوگ بے اختیار بول اٹھے تھے کہ اگر یہ مضمون نہ ہوتا تو آج باعث محمد حسین وغیرہ کے اسلام کو سیکی اٹھانی پڑتی۔“ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا اصفحہ ۳۰۹، ۳۱۷) مخالف علماء ومشائخ کا نام لیکر ان کو دعوت مباہلہ مئی ۱۸۹۳ء میں جب حضرت مسیح موعود نے پادری عبد اللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی تو مخالف علماء نے اپنی عادت کے موافق کھلم کھلا عیسائیوں کا ساتھ دیا۔اس پر آپ نے اُن علماء کو مخاطب کر کے ایک اشتہار مباہلہ شائع کیا۔جس میں پہلے تو اپنے منصب مسیح موعود کو پیش کیا اور فرمایا کہ مسیح موعود کا کام ہی کسر صلیب ہے۔یعنی صلیب کو توڑنا اور اس کے لئے زبردست حربہ وفات مسیح ناصری کا ثابت کرنا ہے۔اور پھر حضرات علماء کی اس